غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ، 73 فیصد نے پاکستان کو موزوں ملک قرار دیا
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ ترین پرسیپشن اینڈ انویسٹمنٹ سروے 2025 کے مطابق 73 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان کو براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے موزوں ملک قرار دیا ہے جو 2023 کے 61 فیصد اعتماد کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔
او آئی سی سی آئی نے یہ رپورٹ دو سال کے وقفے کے بعد جاری کی جس میں پاکستان میں کام کرنے والی 200 سے زائد غیر ملکی کمپنیوں کی آراء شامل ہیں۔ سروے کے مطابق سرمایہ کاروں نے روپے کی قدر میں استحکام، مہنگائی میں کمی اور مجموعی معاشی صورتحال میں بہتری کو اعتماد کی بحالی کی بنیادی وجوہات قرار دیا ۔
سروے میں سرمایہ کاروں نے واضح کیا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے بنگلہ دیش، ویتنام اور فلپائن جیسے ممالک کے مقابلے میں بہتر درجہ رکھتا ہےمزید برآں، پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پیرنٹ فرمز نے مستقبل میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عندیہ بھی دیا ہے، تاہم رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ نئی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اسٹرکچرل رکاوٹوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
سرمایہ کاروں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس ریفنڈ کی واپسی میں پانچ سال تک کا عرصہ لگ جاتا ہے، جو کاروباری تسلسل کے لیے بڑا چیلنج ہے او آئی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے 96 فیصد شرکاء نے توانائی اخراجات میں اضافے کو کاروبار کے لیے خطرہ قرار دیا جبکہ 80 فیصد سرمایہ کار ٹیکس ریفنڈ میں غیر معمولی تاخیر پر نالاں پائے گئے۔
دوسری جانب 58 فیصد شرکاء نے رائے دی کہ میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری کے ثمرات آئندہ تین سالوں میں نمایاں ہوں گے، اسکے علاوہ متعدد شرکاء نے عالمی میڈیا کی منفی رپورٹنگ کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے والا عنصر قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کے مطابق پاکستان میں موجود 35 بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے نہ صرف سرمایہ کاری جاری رکھنے بلکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں روپے کی قدر میں بہتری، مہنگائی میں کمی اور مالیاتی نظم و ضبط نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہےسروے میں مجموعی طور پر پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالے سے امید افزا تاثر نمایاں رہا۔


Comments
Comments are closed.