امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت روس سے تیل خریدنا بند کر دے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کا اگلا ہدف چین کو بھی اس پر آمادہ کرنا ہے تاکہ ماسکو کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کیا جا سکے۔
بھارت اور چین روسی خام تیل کے دو سب سے بڑے خریدار ہیں جو یورپی پابندیوں اور امریکی و یورپی یونین کی جانب سے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد عائد پابندیوں کے نتیجے میں روسی تیل کم قیمت پر حاصل کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر نشانہ بنایا ہے اور بھارتی برآمدات پر ٹیرف عائد کیا ہے تاکہ نئی دہلی کو ماسکو پر دباؤ ڈالنے کے لیے مجبور کیا جا سکے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات سے خوش نہیں تھا کہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے، اور آج مودی نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ یہ ایک بڑا قدم ہے۔ اب ہم چین سے بھی یہی بات کریں گے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ انہوں نے جاپانی وزیرِمالیات کاتسونوبو کاٹو کو واشنگٹن میں ملاقات کے دوران بتایا کہ واشنگٹن توقع کرتا ہے کہ جاپان بھی روس سے توانائی کی درآمدات بند کرے گا۔
روس اس وقت بھارت کا سب سے بڑا تیل فراہم کنندہ ہے، جو ستمبر میں یومیہ تقریباً 1.6 ملین بیرل تیل بھارت کو برآمد کر رہا تھا۔ بھارتی حکام ماضی میں کہتے رہے ہیں کہ روسی تیل کی خریداری ملک کی توانائی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
اگر بھارت واقعی روسی تیل کی درآمد روک دیتا ہے تو یہ ماسکو کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا اور دیگر خریدار ممالک کے فیصلوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
ٹرمپ روس کے معاشی محاصرے کے لیے دو طرفہ تعلقات کو استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں، بجائے اس کے کہ صرف کثیرالجہتی پابندیوں پر انحصار کیا جائے۔


Comments
Comments are closed.