امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کو اپنے ساتھ الحاق کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض دائیں بازو کے اسرائیلی سیاستدان الحاق کے مطالبات کر رہے ہیں، لیکن یہ نہیں ہوگا۔ اب بہت ہو گیا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ یہ سب رک جائے۔“
ٹرمپ کے اس بیان نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے نئی مشکل کھڑی کر دی ہے، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں۔ نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل واپس جا کر اس معاملے پر تبصرہ کریں گے۔
عرب ممالک نے بھی ٹرمپ کو پہلے ہی متنبہ کیا تھا کہ مغربی کنارے کے الحاق کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس پیغام کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
اس وقت تقریباً 7 لاکھ اسرائیلی آبادکار 27 لاکھ فلسطینیوں کے درمیان مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں رہائش پذیر ہیں۔ بین الاقوامی برادری ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے، تاہم اسرائیل اسے مسترد کرتے ہوئے تاریخی اور سلامتی کے جواز پیش کرتا ہے۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے 21 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے تاکہ غزہ میں حماس کے ساتھ تقریباً دو سال سے جاری جنگ کو ختم کیا جا سکے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے عرب اور اسرائیلی رہنماؤں سے بات کی ہے اور امید ہے کہ غزہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔


Comments
Comments are closed.