ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ہے کہ کے-الیکٹرک اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (سی پی پی اے-جی) کے درمیان 172.8 ارب روپے کے تنازعے کو دو سال گزرنے کے باوجود ابھی تک حل نہیں کیا جا سکا۔
پاور ڈویژن کو لکھے گئے ایک خط میں کے-الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) عامر غازیانی نے جولائی 2025 کی ٹی ڈی ایس بیلنس رپورٹ کا حوالہ دیا، جو 8 اگست 2025 کو وزارت توانائی سے کاؤنٹر سائن کے لیے بھیجی گئی تھی۔
اس کے جواب میں سی پی پی اے-جی نے 18 اگست 2025 کو ایک ترمیم شدہ بیلنس رپورٹ شیئر کی، جو ٹیرف ڈفرینشل سبسڈی ایگریمنٹ (ٹی ڈی ایس اے) کی شق 2.5 کے مطابق نہیں تھی۔ مزید یہ کہ شق 2.7 کے مطابق کسی بھی متنازعہ معاملے کو باہمی طور پر طے شدہ تنازعہ حل کرنے کے طریقہ کار کے تحت الگ سے نمٹایا جانا چاہیے۔
مزید برآں، کے-الیکٹرک نے نشاندہی کی کہ حکومتِ پاکستان کے ساتھ طے شدہ ٹی ڈی ایس اے کے مطابق 31 دسمبر 2023 کے بعد کے تمام اجرا براہِ راست کے-الیکٹرک کے ماسٹر کلیکشن اکاؤنٹ میں ہونے لازمی ہیں، نہ کہ سی پی پی اے-جی کو۔ لہٰذا 172.8 ارب روپے کے اجرا کو اس تاریخ سے پہلے کے بقایا جات میں ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے۔
کے-الیکٹرک نے یہ بھی کہا کہ ٹی ڈی ایس اے میں منفی کلیمز پر کسی مارک اپ کی گنجائش موجود نہیں جیسا کہ ترمیم شدہ بیلنس رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ نیپرا کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد یہ کلیمز کے-الیکٹرک کو قابل وصول ہیں اور کمپنی کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ ٹیرف ڈیٹرمنیشن میں تاخیر پر مارک اپ کا دعویٰ کرے، جیسا کہ نیپرا ایکٹ کے تحت شق 2.9 میں فراہم کیا گیا ہے۔
کے-الیکٹرک کے سی ایف او نے کہا کہ ہم اپنے دستخط شدہ معاہدوں پر ہموار عملدرآمد کی درخواست دہراتے ہیں۔ یہ کے-الیکٹرک کی لیکویڈیٹی اور مالی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے اور ساتھ ہی حکومت پر اضافی مالی بوجھ سے بچنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
پاور یوٹیلیٹی کمپنی نے مزید بتایا کہ کے-الیکٹرک نے پاور پرچیز ایجنسی ایگریمنٹ (پی پی اے اے) کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور جنوری 2024 سے اب تک سی پی پی اے-جی کو بجلی کی خریداری پر 354.4 ارب روپے کی بروقت ادائیگیاں کی ہیں۔ اس طرح اس مدت کے دوران سی پی پی اے-جی کو کوئی واجبات ادا طلب نہیں ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.