BR100 Increased By (0.54%)
BR30 Increased By (0.51%)
KSE100 Increased By (0.34%)
KSE30 Increased By (0.25%)
BAFL 58.55 Increased By ▲ 0.10 (0.17%)
BIPL 25.60 Increased By ▲ 0.18 (0.71%)
BOP 34.18 Decreased By ▼ -0.07 (-0.2%)
CNERGY 8.23 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.98 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 199.80 Increased By ▲ 2.33 (1.18%)
FABL 89.88 Increased By ▲ 0.37 (0.41%)
FCCL 54.20 Increased By ▲ 0.31 (0.58%)
FFL 18.14 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
GGL 20.67 Increased By ▲ 0.87 (4.39%)
HBL 286.49 Increased By ▲ 0.43 (0.15%)
HUBC 216.98 Increased By ▲ 1.58 (0.73%)
HUMNL 11.22 Increased By ▲ 0.22 (2%)
KEL 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
LOTCHEM 28.40 Increased By ▲ 0.96 (3.5%)
MLCF 88.99 Increased By ▲ 0.94 (1.07%)
OGDC 324.90 Increased By ▲ 0.34 (0.1%)
PAEL 40.36 Increased By ▲ 0.42 (1.05%)
PIBTL 17.40 Increased By ▲ 0.08 (0.46%)
PIOC 279.02 Increased By ▲ 3.56 (1.29%)
PPL 233.24 Increased By ▲ 0.46 (0.2%)
PRL 34.80 Decreased By ▼ -0.15 (-0.43%)
SNGP 100.14 Increased By ▲ 0.53 (0.53%)
SSGC 27.10 Decreased By ▼ -0.07 (-0.26%)
TELE 8.58 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
TPLP 9.04 Increased By ▲ 0.28 (3.2%)
TRG 73.04 Increased By ▲ 1.29 (1.8%)
UNITY 11.50 Decreased By ▼ -0.17 (-1.46%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)

ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ہے کہ کے-الیکٹرک اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (سی پی پی اے-جی) کے درمیان 172.8 ارب روپے کے تنازعے کو دو سال گزرنے کے باوجود ابھی تک حل نہیں کیا جا سکا۔

پاور ڈویژن کو لکھے گئے ایک خط میں کے-الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) عامر غازیانی نے جولائی 2025 کی ٹی ڈی ایس بیلنس رپورٹ کا حوالہ دیا، جو 8 اگست 2025 کو وزارت توانائی سے کاؤنٹر سائن کے لیے بھیجی گئی تھی۔

اس کے جواب میں سی پی پی اے-جی نے 18 اگست 2025 کو ایک ترمیم شدہ بیلنس رپورٹ شیئر کی، جو ٹیرف ڈفرینشل سبسڈی ایگریمنٹ (ٹی ڈی ایس اے) کی شق 2.5 کے مطابق نہیں تھی۔ مزید یہ کہ شق 2.7 کے مطابق کسی بھی متنازعہ معاملے کو باہمی طور پر طے شدہ تنازعہ حل کرنے کے طریقہ کار کے تحت الگ سے نمٹایا جانا چاہیے۔

مزید برآں، کے-الیکٹرک نے نشاندہی کی کہ حکومتِ پاکستان کے ساتھ طے شدہ ٹی ڈی ایس اے کے مطابق 31 دسمبر 2023 کے بعد کے تمام اجرا براہِ راست کے-الیکٹرک کے ماسٹر کلیکشن اکاؤنٹ میں ہونے لازمی ہیں، نہ کہ سی پی پی اے-جی کو۔ لہٰذا 172.8 ارب روپے کے اجرا کو اس تاریخ سے پہلے کے بقایا جات میں ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے۔

کے-الیکٹرک نے یہ بھی کہا کہ ٹی ڈی ایس اے میں منفی کلیمز پر کسی مارک اپ کی گنجائش موجود نہیں جیسا کہ ترمیم شدہ بیلنس رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ نیپرا کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد یہ کلیمز کے-الیکٹرک کو قابل وصول ہیں اور کمپنی کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ ٹیرف ڈیٹرمنیشن میں تاخیر پر مارک اپ کا دعویٰ کرے، جیسا کہ نیپرا ایکٹ کے تحت شق 2.9 میں فراہم کیا گیا ہے۔

کے-الیکٹرک کے سی ایف او نے کہا کہ ہم اپنے دستخط شدہ معاہدوں پر ہموار عملدرآمد کی درخواست دہراتے ہیں۔ یہ کے-الیکٹرک کی لیکویڈیٹی اور مالی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے اور ساتھ ہی حکومت پر اضافی مالی بوجھ سے بچنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

پاور یوٹیلیٹی کمپنی نے مزید بتایا کہ کے-الیکٹرک نے پاور پرچیز ایجنسی ایگریمنٹ (پی پی اے اے) کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور جنوری 2024 سے اب تک سی پی پی اے-جی کو بجلی کی خریداری پر 354.4 ارب روپے کی بروقت ادائیگیاں کی ہیں۔ اس طرح اس مدت کے دوران سی پی پی اے-جی کو کوئی واجبات ادا طلب نہیں ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.