BR100 Increased By (0.97%)
BR30 Increased By (1.54%)
KSE100 Increased By (0.64%)
KSE30 Increased By (0.69%)
BAFL 58.50 Increased By ▲ 0.06 (0.1%)
BIPL 25.45 Increased By ▲ 0.25 (0.99%)
BOP 34.34 Increased By ▲ 0.35 (1.03%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 197.79 Increased By ▲ 4.82 (2.5%)
FABL 89.89 Increased By ▲ 0.10 (0.11%)
FCCL 54.04 Increased By ▲ 1.21 (2.29%)
FFL 18.10 Increased By ▲ 0.15 (0.84%)
GGL 19.70 Increased By ▲ 0.73 (3.85%)
HBL 287.32 Increased By ▲ 1.82 (0.64%)
HUBC 215.55 Increased By ▲ 1.17 (0.55%)
HUMNL 10.91 Increased By ▲ 0.03 (0.28%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 27.55 Decreased By ▼ -0.34 (-1.22%)
MLCF 88.15 Increased By ▲ 1.64 (1.9%)
OGDC 323.27 Increased By ▲ 3.31 (1.03%)
PAEL 39.93 Increased By ▲ 0.51 (1.29%)
PIBTL 17.42 Increased By ▲ 0.75 (4.5%)
PIOC 270.50 Increased By ▲ 4.44 (1.67%)
PPL 231.50 Increased By ▲ 3.32 (1.45%)
PRL 35.00 Increased By ▲ 0.32 (0.92%)
SNGP 99.80 Increased By ▲ 0.62 (0.63%)
SSGC 27.15 Increased By ▲ 0.55 (2.07%)
TELE 8.66 Increased By ▲ 0.38 (4.59%)
TPLP 8.85 Increased By ▲ 0.63 (7.66%)
TRG 71.25 Increased By ▲ 1.54 (2.21%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز معمولی کمی دیکھی گئی جو گزشتہ سیشن میں 1 فیصد سے زائد اضافے کے بعد سامنے آئی۔ سرمایہ کار یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد روس کی توانائی رسد کو لاحق خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 27 سینٹ (0.4 فیصد) کمی کے ساتھ فی بیرل 68.20 ڈالر پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ فیوچرز 31 سینٹ (0.5 فیصد) کمی کے بعد 64.21 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہے تھے۔

گزشتہ تجارتی سیشن میں دونوں بینچ مارک قیمتیں 1 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھیں، جس کی وجہ یوکرینی حملوں کے نتیجے میں روسی رسد متاثر ہونے کے خدشات تھے۔

روس کی تیل پائپ لائن اجارہ داری ٹرانسنیفٹ نے خبردار کیا ہے کہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد اہم برآمدی بندرگاہوں اور ریفائنریوں کو نقصان پہنچنے کے باعث تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کو پیداوار میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے۔ یہ بات منگل کو رائٹرز کو تین صنعتی ذرائع نے بتائی۔

PVM آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا:

”اگر روسی توانائی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان قلیل مدتی ثابت ہوتا ہے، تو خام تیل کی قیمتیں دوبارہ اپنے حالیہ 5 ڈالر فی بیرل کے دائرے میں آ جائیں گی۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”پابندیوں کے تعطل اور اوپیک کی طرف سے اضافی سپلائی کی آمد کے تناظر میں، تیل کی قیمتوں میں اضافے کی واحد امید موسمِ سرما سے قبل ڈسٹیلیٹ ( ریفائن شدہ تیل) کے ذخائر کی کمی ہے۔“

ادھر سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی فیڈرل ریزرو کے دو روزہ ( 16-17 ستمبر کے اجلاس پر بھی مرکوز ہیں، جہاں توقع ہے کہ مرکزی بینک شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کرے گا۔

امریکن پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ (اے پی آئی) کے اعداد و شمار کے حوالے سے مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل اور پیٹرول کے ذخائر میں کمی آئی، جبکہ ڈسٹیلیٹ کے ذخائر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس حوالے سے توجہ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے سرکاری اعداد و شمار پر بھی ہے۔ رائٹرز کے ایک جائزے میں شامل نو تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ خام تیل کے ذخائر میں کمی جبکہ ڈسٹیلیٹ اور پیٹرول کے ذخائر میں اضافہ متوقع ہے۔

سپلائی کی جانب قازقستان نے 13 ستمبر کو باکو-تبلیسی-جیہان (بی ٹی سی) پائپ لائن کے ذریعے تیل کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ ریاستی توانائی کمپنی کازمونی گاز نے بدھ کو تصدیق کی ہے کہ یہ سپلائی گزشتہ ماہ آلودگی کے مسائل کی وجہ سے معطل کر دی گئی تھی۔

اسی دوران یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے روسی ایندھن پر انحصار تیزی سے ختم کرنے اور ماسکو پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی تجویز دی ہے۔

فیڈرل ریزرو کے اجلاس 16 سے 17 ستمبر میں شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کمی کا فیصلہ متوقع ہے، جو معیشت کو سہارا دے سکتا ہے اور ایندھن کی طلب میں اضافہ کرے گا۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹ کی توجہ اس بات پر ہو گی کہ کتنے اراکین بڑی کمی (50 بیسس پوائنٹس) کے حق میں رائے دیتے ہیں اور چیئرمین جیروم پاول اپنی پریس کانفرنس میں کیا لہجہ اختیار کرتے ہیں۔

امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں 3.42 ملین بیرل اور پٹرول کے ذخائر میں 6 لاکھ 91 ہزار بیرل کمی ہوئی جبکہ ڈیزل کے ذخائر میں 1.91 ملین بیرل اضافہ ریکارڈ ہوا۔ توانائی کی معلوماتی ایجنسی کے سرکاری اعداد و شمار کا بدھ کے روز انتظار کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے اندازوں کے مطابق خام تیل کے ذخائر میں 9 لاکھ بیرل کمی، ڈیزل کے ذخائر میں 10 لاکھ بیرل اضافہ اور پٹرول کے ذخائر میں ایک لاکھ بیرل اضافہ متوقع ہے۔

Comments

Comments are closed.