تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو مسلسل تیسرے روز کمی دیکھنے میں آئی، اور یہ تین ہفتوں میں پہلی مرتبہ ہفتہ وار کمی کی طرف گامزن ہے، جس کی بنیادی وجوہات مستقبل میں سپلائی بڑھنے کی توقعات اور امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافہ ہیں، جنہوں نے طلب سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اوپیک پلس (+ OPEC) کے آٹھ رکن ممالک اتوار کے روز ہونے والے اجلاس میں پیداوار میں مزید اضافے پر غور کریں گے۔ دوسری جانب امریکی خام تیل کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے 24 لاکھ بیرل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ تجزیہ کار کمی کی توقع کر رہے تھے۔
جمعہ کو دوپہر عالمی وقت کے مطابق 1:23 بجے پر برینٹ کروڈ فی بیرل 1.33 ڈالر (1.99فیصد) کمی سے 65.66 ڈالر جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فی بیرل 1.36 ڈالر (2.14 فیصد) کمی سے 62.12 ڈالر ہوگئے۔
پی وی ایم کے آئل بروکر جان ایوانز نے کہا کہ ”بڑھتی ہوئی رپورٹس اور اشارے بتا رہے ہیں کہ مستقبل میں خام مال (فیڈ اسٹاک) کی سپلائی مسئلہ نہیں ہوگی۔“
ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کی قیمت میں 3.6 فیصد کمی اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 2.95 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
اُمید کی جا رہی ہے کہ اوپیک پلس ، جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں اور جو دنیا کا تقریباً آدھا تیل پیدا کرتا ہے، اتوار کے اجلاس میں مارکیٹ میں مزید تیل لانے کا فیصلہ کر سکتا ہے تاکہ اپنی مارکیٹ شیئر کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ تنظیم اپنے پیداوار میں کٹوتی کے دوسرے مرحلے، یعنی روزانہ 16.5 لاکھ بیرل کی کمی، کو شیڈول سے ایک سال پہلے ہی ختم کرنا شروع کر دے گی، جو کہ عالمی طلب کا تقریباً 1.6 فیصد بنتا ہے۔
کومرزبینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق ”اگر آٹھ اوپیک پلس ممالک پیداوار بڑھانے پر متفق ہوتے ہیں تو اس سے تیل کی قیمتوں پر نمایاں منفی دباؤ پڑے گا، کیونکہ پہلے ہی سپلائی زائد ہونے کا خطرہ موجود ہے۔“
تاہم کچھ رسد سے متعلق خطرات اب بھی مارکیٹ کو سہارا دے رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ روسی تیل کی خریداری بند کریں۔
جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے جمعہ کو کہا ہے کہ ”یہ خطرہ موجود ہے کہ مغربی طاقتیں روس کے خلاف پابندیاں مزید سخت کر سکتی ہیں تاکہ صدر پیوٹن کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔“
اس قسم کی کسی بھی پیش رفت سے روسی خام تیل کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، جو عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔


Comments
Comments are closed.