وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت ڈائریکٹر انرجی، جون ہو ہوانگ کر رہے تھے۔
ملاقات میں پاکستان کے توانائی شعبے میں اصلاحات، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (دسکوز) کی نجکاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل اور آئندہ تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے ہمیشہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اور انٹیگریٹڈ انرجی پلاننگ کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں تین ڈسکوز کو نجی شعبے میں دیا جائے گا اور اس ضمن میں سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت کو خوش آمدید کہا جائے گا۔
وزیر توانائی نے زور دیا کہ حکومت صاف توانائی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، برقی گاڑیوں کے لیے نیا ٹیرف متعارف کرایا جا چکا ہے اور گرڈ و میٹرنگ سسٹمز کو بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ماحولیاتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً 2,800 میگاواٹ کے فوسل فیول پاور پلانٹس مقررہ وقت سے پہلے بند کر دیے ہیں اور اب ملک گرین فنانسنگ اور کاربن کریڈٹس تک رسائی چاہتا ہے۔
جون ہو ہوانگ نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کو پاکستان کے توانائی شعبے کی معاونت پر فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس شعبے کے لیے 130 ملین ڈالر منظور کیے گئے ہیں جن میں سے ابتدائی طور پر 30 ملین ڈالر فوری دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک حکومت کی گرین فنانسنگ کے فروغ کی کوششوں کو سراہتا ہے اور ان کا ادارہ منصوبوں کے ابتدائی مراحل سے شامل ہوگا تاکہ پاکستان کو اس فنانسنگ سے زیادہ سے زیادہ فوائد مل سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بینک پاکستان کو نجکاری، کاربن مارکیٹ کے قیام، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کی جدید کاری اور قابل تجدید توانائی منصوبوں کی ترقی میں بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.