BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعرات کو بھی دباؤ کا شکار رہیں اور کمی کا رجحان برقرار رہا، جو پچھلے سیشن میں 2 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد مزید تسلسل کا باعث بنا۔ سرمایہ کاروں اور تاجروں کی توجہ اس ہفتے کے اختتام پر ہونے والے اوپیک پلس کے اجلاس پر مرکوز ہے، جہاں توقع ہے کہ پیداوار کے اہداف میں ایک اور اضافے پر غور کیا جائے گا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ 46 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی سے 67.14 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 47 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 63.5 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔

ذرائع کے مطابق اوپیک اور اس کے اتحادیوں پر مشتمل اتحاد اوپیک پلس کے آٹھ ارکان اتوار کو ہونے والے اجلاس میں اکتوبر کے لیے پیداوار میں مزید اضافے پر غور کریں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عالمی مارکیٹ میں اپنے شیئر کو دوبارہ مستحکم کرنا ہے۔

اے این زیڈ ریسرچ کے مطابق برینٹ کروڈ آئل پر دباؤ اس وقت بڑھ گیا ہے جب اوپیک پلس چوتھی سہ ماہی میں اضافی بیرل مارکیٹ میں لانے پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ایسا ہوا تو متوقع سپلائی سرپلس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی طلب کمزور ہے۔

اوپیک پلس اپریل سے ستمبر تک یومیہ تقریباً 22 لاکھ بیرل پیداوار بڑھانے کے معاہدے پر پہلے ہی عمل کررہا ہے، اس کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے لیے یومیہ 3 لاکھ بیرل اضافی کوٹہ بھی منظور کیا گیا ہے۔ تیز رفتار پیداوار کے باوجود مشرق وسطیٰ کے تیل کی قیمتیں دنیا کی سب سے مضبوط علاقائی قیمتیں بنی ہوئی ہیں، جس نے سعودی عرب اور دیگر رکن ممالک کو مزید پیداوار بڑھانے کا اعتماد دیا ہے۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران تیز رفتار پیداواری اضافے کے باوجود مشرق وسطیٰ کی تیل کی قیمتیں دنیا بھر میں سب سے مضبوط علاقائی قیمتوں کے طور پر برقرار رہی ہیں۔

ہائیتونگ سکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق اس رجحان نے سعودی عرب اور دیگر اوپیک رکن ممالک کے اعتماد کو مزید بڑھایا ہے کہ وہ پیداوار میں اضافہ کریں۔

کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کے تجزیہ کار ویوک دھر کے مطابق، اپریل سے کوٹوں میں اضافے کے فیصلے کی ایک اور بڑی وجہ مارکیٹ شیئر پر دوبارہ دعویٰ کرنا ہے۔

ویوک دھر نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ اوپیک پلس برینٹ آئل کی کم قیمت یعنی تقریباً 60 سے 65 ڈالر فی بیرل پر زیادہ مطمئن ہے، بجائے اس کے کہ وہ اپنا پچھلا ہدف 70 ڈالر برقرار رکھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب ہے برینٹ فیوچرز غالباً 60 سے 65 ڈالر کی حد میں آجائیں گے جس کے نتیجے میں ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتیں 50 ڈالر کے بالائی حصے سے 60 ڈالر کی نچلی سطح تک جا سکتی ہیں جو امریکی شیل آئل کی سپلائی میں اضافے کی معیشت کو چیلنج کرے گا۔

ادھر مارکیٹ شرکاء امریکی خام تیل کے ذخائر کے سرکاری اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو جمعرات کو جاری ہوں گے۔ یہ ڈیٹا معمول سے ایک دن تاخیر سے جاری کیا جا رہا ہے کیونکہ پیر کو امریکا میں چھٹی تھی۔

مارکیٹ ذرائع نے بدھ کو امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 29 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر میں 6 لاکھ 22 ہزار بیرل کا اضافہ ہوا۔

اے پی آئی کی جانب سے امریکی خام تیل کے ذخائر میں اضافے کا یہ تخمینہ رائٹرز کے سروے میں شامل تجزیہ کاروں کی پیش گوئی کے برعکس ہے، جنہوں نے اوسطاً 20 لاکھ بیرل کمی کا اندازہ لگایا تھا۔

Comments

Comments are closed.