پاکستان کی ٹائر سازی کی کمپنی پینتھر ٹائرز لمیٹڈ نے اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹ میں 2.5 میگاواٹ کا سولر پاور سسٹم کامیابی کے ساتھ نصب کر کے قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کی جانب ایک اہم اقدام کیا ہے۔
لسٹڈ کمپنی نے جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔
نوٹس کے مطابق ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہے کہ پینتھر ٹائرز لمیٹڈ نے اپنے پلانٹ میں 2.5 میگاواٹ کا سولر پاور سسٹم کامیابی کے ساتھ نصب کردیا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس اقدام سے توانائی کے ذرائع میں مضبوطی آئے گی اور بجلی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ صاف اور قابلِ تجدید ذرائع سے پورا کیا جاسکے گا۔
نوٹس میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام کمپنی کے ماحولیاتی پائیداری، توانائی کی کارکردگی، آپریشنل لاگت میں کمی اور ذمہ دار کارپوریٹ سٹیزن شپ کے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔
پاکستان میں متبادل توانائی کے ذرائع، خاص طور پر سولر توانائی کی طرف رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ رہائشی و تجارتی شعبوں میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔
اس رجحان نے فیصلہ سازوں کو قومی گرڈ اور توانائی شعبے پر اس کے اثرات پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ بجلی کی کھپت مستحکم ہے۔
تاہم اس نسبتاً سستی توانائی کے استعمال کیلئے کئی منصوبے بھی شروع کیے جا چکے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں کوہ نور ملز لمیٹڈ نے پائیدار آپریشنز اور لاگت کی بچت کے لیے 7.2 میگاواٹ کے سولر پاور سسٹم نصب کرنے کا منصوبہ اعلان کیا۔
اسی دوران دیوان سیمنٹ لمیٹڈ نے کراچی میں اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹ میں 6 میگاواٹ کا سولر پاور سسٹم کامیابی کے ساتھ فعال کر دیا۔
مئی میں انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ جو انٹرنیشنل انڈسٹریز لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے، نے کراچی میں اپنے فیکٹری میں 6.4 میگاواٹ کے سولر پاور منصوبے کو مکمل اور فعال کردیا۔
مارچ میں طارق کارپوریشن لمیٹڈ جو چینی اور اس کے ضمنی مصنوعات کی تیاری میں مصروف ہے نے اپنے پلانٹ میں 200 کلوواٹ کا سولر پاور سسٹم نصب کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔
یہ اقدامات ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں تیزی اور صنعتوں کی لاگت کم کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔


Comments
Comments are closed.