اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جمعرات کے روز اسرائیل کی جانب سے غزہ سٹی پر قبضے کے لیے فوجی آپریشن کے اعلان کے بعد فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ جاپان میں ٹوکیو انٹرنیشنل کانفرنس آن افریقن ڈویلپمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ضروری ہے تاکہ اس فوجی آپریشن سے ہونے والی ناگزیر تباہی اور انسانی جانوں کے نقصان کو روکا جا سکے۔
اسرائیل اس وقت غزہ پٹی کے تقریباً 75 فیصد حصے پر قابض ہے اور ہزاروں ریزروسٹ فوجیوں کو طلب کر کے سب سے بڑے شہری مرکز پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی جب حماس کے جنگجوؤں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کر کے تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک اور 251 یرغمال بنالیا تھا۔
گوتریس نے حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کے توسیعی منصوبے کو واپس لے۔ فلسطینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ تعمیرات فلسطینی برادریوں کو الگ تھلگ کرنے اور دو ریاستی حل کو ختم کرنے کی کوشش ہیں۔


Comments
Comments are closed.