نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے پیر کے روز مزید دو مون سون اسپیلز کی پیشگوئی کرتے ہوئے سیاحوں کو گلگت بلتستان، ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ موسلادھار بارشوں کے باعث دریاؤں میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں سڑکوں کی بندش کا شدید خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق کئی اہم راستے پہلے ہی متاثر ہیں، جن میں سرمو پل، سالتورو پل، باغیچہ، استک پل، دیان، تھلی بروق، شندور، خالد، گلگت–گورو، ہپر نگر اور چلم روڈ سمیت متعدد مقامات شامل ہیں، جن کے متبادل راستے موجود نہیں۔ قراقرم ہائی وے کے مختلف حصوں، خاص طور پر تورغر، بٹگرام، شانگلہ، کوہستان، تتہ پانی، گلگت اور ہنزہ کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان اس وقت مون سون کے ساتویں اسپیل سے گزر رہا ہے اور مزید دو اسپیلز متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے گلگت بلتستان اور کشمیر کو شدید خطرات لاحق ہیں، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک تقریباً 670 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ 80 سے 90 لاپتہ ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ حکومت اور پاک فوج کی مدد سے متاثرین کی بحالی اور ریلیف کی سرگرمیاں جاری ہیں، 400 سے زائد کیمپ قائم کیے جاچکے ہیں، جبکہ امدادی سامان قافلوں کی صورت میں متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن بڑے آلودہ ممالک کے اخراج کی وجہ سے ہمارے گلیشیئر پگھل رہے ہیں۔ انہوں نے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور متاثرین کی امداد کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں متاثرہ علاقوں کی صورتحال اور جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور این ڈی ایم اے مسلسل متعلقہ اداروں کو ابتدائی وارننگ فراہم کر رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.