عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو مسلسل چوتھے روز اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے رسد میں ممکنہ کمی کے خدشات ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین جنگ کے جلد خاتمے کے لیے دباؤ اور روسی تیل خریدنے والے ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکیوں نے مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔
برینٹ کروڈ کے ستمبر کے سودے، جو جمعرات کو ختم ہو رہے ہیں، 27 سینٹ (0.4 فیصد) اضافے سے 73.51 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ بھی 37 سینٹ (0.5 فیصد) بڑھ کر 70.37 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ دونوں بینچ مارک بدھ کو بھی ایک فیصد اضافہ ظاہر کر چکے تھے۔
زیادہ فعال برینٹ اکتوبر کنٹریکٹ 29 سینٹ اضافے سے 72.76 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
فوجیتومی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار توشیتاکا تازاوا کے مطابق روسی خام تیل درآمد کرنے والے ممالک پر ممکنہ سیکنڈری ٹیرف کے خدشات نے خریداری میں دلچسپی کو بڑھایا ہے۔
منگل کو ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر روس نے اگلے 10 سے 12 دن میں جنگ ختم کرنے میں پیش رفت نہ کی تو وہ روس کے تجارتی شراکت داروں پر 100 فیصد ٹیرف لگائیں گے، جو کہ پہلے دی گئی 50 دن کی ڈیڈ لائن سے کہیں جلدی ہے۔
بدھ کو ٹرمپ نے بھارت سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جو جمعہ سے نافذ ہو گا، تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ اب بھی بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات کر رہا ہے۔ چین، جو روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ مسلسل خریداری پر بھاری ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بدھ کو ایران سے منسلک 115 سے زائد افراد، اداروں اور جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کیں۔ یہ اقدام جون میں تہران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی بمباری کے بعد زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کا تسلسل ہے۔
دوسری جانب، امریکی تیل کے ذخائر میں 7.7 ملین بیرل کا غیر متوقع اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ تجزیہ کاروں کو 1.3 ملین بیرل کی کمی کی توقع تھی۔ تاہم، پیٹرول کے ذخائر میں 2.7 ملین بیرل کی بڑی کمی نے طلب کی مضبوطی کی عکاسی کی، جس نے مارکیٹ پر متوازن اثر ڈالا۔


Comments
Comments are closed.