ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) ڈاکٹر حمید عتیق سرور نے جمعرات کو کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے غیر رجسٹرڈ افراد کو فراہم کی جانے والی اشیا پر عائد 4 فیصد ’’فردر سیلز ٹیکس‘‘ کے خاتمے کو 50,000 افراد کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے مشروط کیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے بجٹ 26-2025 میں غیر رجسٹرڈ افراد کو اشیا کی سپلائی پر عائد 4 فیصد فردر سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم جب یہ تجویز منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے پیش کی گئی تو آئی ایم ایف نے اس ٹیکس کے خاتمے سے قبل سیلز ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
سال 2023 میں ایف بی آر نے ترمیمی فنانس بل 2023 کے ذریعے ’’فردر سیلز ٹیکس‘‘ کی شرح 3 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کردی تھی۔ اس وقت غیر رجسٹرڈ افراد کو اشیا فراہم کرنے پر فردر ٹیکس کی شرح 4 فیصد ہے۔
یہ شرح اس لیے بڑھائی گئی تھی تاکہ غیر رجسٹرڈ افراد کو سپلائیز کرنے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اگر کوئی شخص سیلز ٹیکس نیٹ سے باہر رہنا چاہتا ہے تو اسے 4 فیصد فردر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ قانون کے تحت یہ ’’فردر ٹیکس‘‘ کسی رجسٹرڈ شخص کی جانب سے کسی ایسے شخص کو قابل ٹیکس اشیا کی فراہمی پر وصول کیا جاتا ہے جس نے سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر حاصل نہ کیا ہو یا وہ فعال ٹیکس دہندہ نہ ہو۔
ایف بی آر کے ممبر کے مطابق پاکستان میں ٹیکس کی تعمیل کی صورتحال اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ 2 لاکھ رجسٹرڈ سیلز ٹیکس دہندگان میں سے صرف 60,000 سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ان میں صرف 30,000 مینوفیکچررز شامل ہیں۔ ہمارے پاس 3 لاکھ 80 ہزار صنعتی صارفین اور 50 لاکھ سے زائد کمرشل کنیکشنز ہیں۔
سائبر سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے بھارت کے 1,684 سائبر حملے، جن میں ایف بی آر پر حملے بھی شامل ہیں، ناکام بنائے ہیں اور ان حملوں کے نتیجے میں ٹیکس دہندگان کا کوئی ڈیٹا لیک نہیں ہوا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.