امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان کے ساتھ ایک بڑا تجارتی معاہدہ کر لیا ہے جس کے تحت گاڑیوں کی درآمد پر ٹیرف میں کمی کی گئی ہے اور ٹوکیو کو دیگر اشیا پر سخت نئے ٹیرف سے استثنا دیا گیا ہے، جس کے بدلے جاپان نے امریکہ میں 550 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور قرضوں کا پیکج فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، اس معاہدے کے تحت جاپان 100 بوئنگ طیارے خریدے گا اور امریکی کمپنیوں سے دفاعی اخراجات کو سالانہ 14 ارب ڈالر سے بڑھا کر 17 ارب ڈالر کرے گا۔ جاپانی آٹو سیکٹر، جو امریکہ کو اس کی برآمدات کا 25 فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے، پر ٹیرف 27.5 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد ہو جائے گا۔
یہ اعلان جاپان کے نِکئی اسٹاک انڈیکس میں تقریباً 4 فیصد اضافے کا باعث بنا، جبکہ ٹویوٹا اور ہونڈا کے حصص میں بالترتیب 14 اور 11 فیصد اضافہ ہوا۔ جاپانی وزیراعظم شیگیرو ایشیبا نے اسے امریکہ کے ساتھ تجارتی سرپلس رکھنے والے ممالک پر لگنے والا سب سے کم ٹیرف قرار دیا۔
2024 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت 230 ارب ڈالر رہی، جبکہ جاپان کا تجارتی سرپلس 70 ارب ڈالر کے قریب تھا۔ جاپان امریکہ کا پانچواں بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ معاہدے کے تحت جاپان امریکی زرعی مصنوعات کی 8 ارب ڈالر کی خریداری کرے گا اور چاول کی درآمدات میں 75 فیصد اضافہ کرے گا۔
امریکی آٹو مینوفیکچررز نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ جاپانی گاڑیوں پر ٹیرف میں کمی کی گئی ہے جبکہ کینیڈا اور میکسیکو میں تیار کردہ گاڑیوں پر اب بھی 25 فیصد ٹیرف برقرار ہے۔
جاپان امریکہ میں سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار ہے، جس کی سرمایہ کاری 2024 کے اختتام پر 819 ارب ڈالر تھی۔ معاہدے کے تحت جاپان امریکی کاروں اور ٹرکوں پر اضافی حفاظتی ٹیسٹ ختم کرے گا، جبکہ سٹیل اور ایلومینیم کی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف برقرار رہے گا۔


Comments
Comments are closed.