جاپان کے وزیراعظم شیگرو ایشیبا پیر کے روز عہدے پر قائم رہے حالانکہ حالیہ انتخابات میں ان کی جماعت کو ایوانِ بالا میں اکثریت کھونے کا سامنا کرنا پڑا، ایسے وقت میں جب امریکہ کی جانب سے نئے اور تکلیف دہ ٹیرف قریب ہیں۔
اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں ایشیبا کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی)، جو 1955 سے تقریباً مسلسل برسرِ اقتدار ہے، اور اس کی اتحادی جماعت کومیٹو ایوانِ بالا میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے تین نشستوں سے محروم رہیں۔ افراطِ زر سے نالاں ووٹرز نے متبادل جماعتوں کا رخ کیا، خصوصاً سانسیتو پارٹی کی طرف، جو اپنی ”اینٹی گلوبلسٹ“ مہم کے ساتھ مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔
انتخابات کے نتائج کے بعد مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایشیبا نے کہا کہ وہ عہدہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے: ”میں نتائج کی سنگینی سے پوری طرح واقف ہوں، لیکن سیاست کو جمود کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے بطور سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔“ انہوں نے نتائج کو ”انتہائی افسوسناک“ قرار دیا۔
یہ ناکامی صرف چند ماہ بعد سامنے آئی جب ایل ڈی پی کو ایوانِ زیریں میں بھی اقلیت میں جانا پڑا، جو گزشتہ 15 برسوں میں اس کا بدترین نتیجہ تھا۔ پارٹی کے اندر قیادت کی تبدیلی کے امکانات غیر واضح ہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں ایل ڈی پی میں قیادت کی بار بار تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔
ایوانِ بالا کی 248 نشستوں میں سے 125 پر انتخاب ہوا، جس میں حکومتی اتحاد کو اکثریت کے لیے 50 نشستیں درکار تھیں، لیکن مقامی میڈیا کے مطابق وہ صرف 47 نشستیں جیت سکے، جن میں ایل ڈی پی کی 39 اور کومیٹو کی 8 نشستیں شامل ہیں، جس کے بعد ان کی کل تعداد 122 رہ گئی۔ دوسری بڑی جماعت کنسٹیٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان (سی ڈی پی) نے 22 نشستیں حاصل کیں جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی فار دی پیپل نے 17 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ دائیں بازو کی سانسیتو پارٹی نے 14 نشستیں جیتیں، جو سخت امیگریشن قوانین، ”انتہا پسند“ صنفی پالیسیوں کی مخالفت اور ڈیکارونائزیشن و ویکسینیشن پر نظرثانی چاہتی ہے۔


Comments
Comments are closed.