اسٹاک ایکسچینج میں ایک اور نیا ریکارڈ ،انڈیکس ایک لاکھ 38 ہزار 600 پوائنٹس کی بلند سطح پر بند
- منافع بخش شعبے متحرک، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 138,943.47 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا تھا
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج پھر نئی تاریخ رقم ہوئی اور پہلی بار 100 انڈیکس ایک لاکھ 38 ہزار کی تاریخی سطح عبور کرگیا۔
اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو خریداری کا رجحان برقرار رہا۔ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 138,943.47 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر دیکھا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2,285.53 پوائنٹس یا 1.68 فیصد اضافے سے 138,665.49 پوائنٹس پر بند ہوا۔
آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری میں خریداری دیکھی گئی۔ اے آر ایل، حبکو، یو بی ایل، پی او ایل، ماری، ایس این جی پی ایل، پی ایس او اور این بی بی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
یاد رہے کہ بدھ کو کے ایس ای 100انڈیکس 440 پوائنٹس یا 0.32 فیصد کے اضافے سے 136,380 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاکس جمعرات کو غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے، کیونکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے منافع کی رپورٹس سے قبل سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا اور امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کی مدتِ صدارت سے متعلق غیریقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ میں بے چینی برقرار رہی۔
ٹی ایس ایم سی جو دنیا میں جدید ترین اے آئی چِپس بنانے والی مرکزی کمپنی ہے، سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ دوسری سہ ماہی میں ریکارڈ سطح تک منافع میں اضافہ ظاہر کرے گی۔ تاہم امریکی ٹیکس اور تائیوان کے مضبوط کرنسی (ڈالر) کا دباؤ اس کی آئندہ کارکردگی پر اثر ڈال سکتا ہے۔
نیٹ فلکس کا منافع بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا سب سے وسیع انڈیکس صرف 0.06 فیصد بڑھا جبکہ نکّی انڈیکس میں 0.24 فیصد کمی واقع ہوئی۔
یورپی فیوچرز میں تیزی دیکھی گئی، جہاں یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.56 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایف ٹی ایس سی اور ڈی اے ایکس فیوچرز میں ہر ایک نے تقریباً 0.4 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔
نیسڈیک فیوچرز اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں ہر ایک میں 0.1 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
مارکیٹ کے مزاج پر سب سے زیادہ اثر فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے مستقبل سے متعلق ابہام کا رہا۔ ابتدائی خبروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی پاول کو برطرف کرنے کا ارادہ رکھتے تھے جس کے نتیجے میں اسٹاکس اور ڈالر کی قدر میں کمی آئی۔
تاہم، ٹرمپ نے ان رپورٹس کی فوری تردید کی جس سے غیر یقینی صورتحال کے شکار بازاروں میں کچھ حد تک سکون بحال ہوا لیکن انہوں نے اس امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا اور مرکزی بینک کے سربراہ پر شرحِ سود میں کمی نہ کرنے پر اپنی تنقید دہرائی۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے


Comments
Comments are closed.