وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے سوشل میڈیا اور پریس بریفنگز کے ذریعے جشن منانے کے انداز میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ مالی سال 25-2024 میں ڈسکوز کی نااہلی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات میں زبردست کمی آئی ہے — جو کہ گزشتہ سال کے 591 ارب روپے سے کم ہو کر 400 ارب روپے رہ گئے۔ 191 ارب روپے کی کمی کوئی معمولی بات نہیں۔ لیکن یہ بات نظر انداز نہیں کی جانی چاہیے کہ 400 ارب روپے کا نقصان اب بھی ایک شدید تباہ کن حقیقت ہے۔ یہ ایک بہتر سال ہو سکتا ہے، مگر ہرگز ایک اچھا سال نہیں۔
حیرت انگیز طور پر قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مالی سال 2025 کی دوسری ششماہی کے دوران کیا ہوا۔ پاور منسٹر کے مطابق، پورے سال کے لیے وصولیوں کی شرح 96.06 فیصد تک پہنچ گئی — جو کہ دسمبر 2024 کے اختتام پر 92.02 فیصد تھی۔ یعنی صرف چھ ماہ میں ہی بہت زیادہ بہتری آ گئی۔ کچھ لوگ اسے ”جادوئی“ بھی کہہ سکتے ہیں۔

سیاق و سباق واضح کرنے کے لیے: مالی سال کے نصف مرحلے پر، ڈسکوز نے 3.12 ٹریلین روپے کا بل جاری کیا تھا اور 2.87 ٹریلین روپے کی وصولی کی تھی — یعنی 249 ارب روپے کا شارٹ فال تھا۔ پھر باقی چھ مہینوں میں، انہوں نے بل شدہ رقم سے 117 ارب روپے زائد وصول کر لیے۔ دوسرے لفظوں میں، مالی سال کی دوسری ششماہی میں 100 فیصد سے زائد وصولی ہوئی۔ تقریباً 3 ارب یونٹس کے برابر ”اضافی“ وصولیاں ہو گئیں۔ حیران کن، ہے نا؟
یقیناً، کھپت کے رجحانات، موسمیاتی فرق، اور ٹیرف کے ڈھانچے مالی سال کے مختلف ادوار میں مختلف ہوتے ہیں — یہ بات درست ہے۔ لیکن تاریخی طور پر، گزشتہ دو سالوں میں دوسری ششماہی ہی وہ دور رہا ہے جب نااہلی کے نقصانات کا سب سے بڑا حصہ (تقریباً 60 فیصد) ہوتا رہا ہے۔ اس رجحان کا مالی سال 25 میں یکدم پلٹ جانا — اور وہ بھی چوتھی سہ ماہی میں کم ٹیرف کے باوجود — ایک عددی معمہ ہے۔

وزیر موصوف نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ رواں سال کی وصولی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مالی سال 21 اب بھی 97 فیصد وصولی کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ تو اگرچہ اس سال کی وصولی قابلِ تعریف ضرور ہے، لیکن بےمثال نہیں۔ جب تک ہم ”ریکارڈ توڑ“ کی کوئی نئی تعریف نہیں اپناتے۔
اب اگر واقعی وصولی کے محاذ پر ڈسکوز کی نااہلی میں بہتری آ رہی ہے — تو یہ خوش آئند بات ہے۔ مگر فی الحال، ہم نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ کے منتظر ہیں تاکہ تصویر کچھ زیادہ واضح ہو جائے۔ جب بھی وہ جاری ہو۔

جہاں تک ڈسکوز کی نااہلی کی دوسری شق یعنی ترسیل اور تقسیم (ٹی اینڈ ڈی) کے نقصانات کا تعلق ہے — وہاں کارکردگی اب بھی بدستور مایوس کن ہے۔ ٹی اینڈ ڈی نقصانات کی شرح اب بھی تقریباً 18 فیصد کے قریب ہے — جو کہ نیپرا کے مقررہ ہدف 11.4 فیصد سے کوسوں دور ہے۔ مالیاتی لحاظ سے، اس میں ”بہتری“ محض 10 ارب روپے کی رہی ہے۔ یہ کسی فریم میں سجانے کے قابل نہیں۔
اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ اجازت شدہ اور اصل ٹی اینڈ ڈی نقصانات کے درمیان خلا حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ سات سالوں میں، نقصانات ایک تنگ دائرے میں ہی گھومتے رہے ہیں — اور وہ بھی بہتری کی جانب نہیں۔ پے در پے اہداف اور مسلسل ٹیرف ایڈجسٹمنٹس کے باوجود کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

اور یہ مت بھولیے — یہ حساب کتاب صرف اُن نقصانات پر ہے جو مقررہ حد سے تجاوز کرتے ہیں۔ باقی نقصانات تو پہلے ہی صارفین کے ٹیرف میں شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہر اضافی فیصد نااہلی کا بوجھ براہِ راست عوام اور ٹیکس دہندگان کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے: ڈسکوز کے نقصانات کا ایک پہلو حیران کن تبدیلی سے دوچار دکھائی دے رہا ہے — یا کم از کم ایسا بتایا جا رہا ہے۔ لیکن دوسرا پہلو اب بھی کمزور کارکردگی کا شکار ہے۔ جب تک دونوں حصے — شفافیت اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ساتھ، محض بیانات اور دعوؤں کی بجائے — درست نہیں کیے جاتے، توانائی کے شعبے کی مستقل ناکامیاں معمول کا حصہ بنی رہیں گی۔


Comments
Comments are closed.