BR100 Decreased By (-0.06%)
BR30 Increased By (1.22%)
KSE100 Decreased By (-0.07%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 59.84 Increased By ▲ 0.82 (1.39%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 35.28 Decreased By ▼ -1.18 (-3.24%)
CNERGY 13.13 Increased By ▲ 1.19 (9.97%)
DFML 18.08 Decreased By ▼ -0.12 (-0.66%)
DGKC 217.01 Decreased By ▼ -1.02 (-0.47%)
FABL 99.95 Decreased By ▼ -0.45 (-0.45%)
FCCL 57.97 Increased By ▲ 0.61 (1.06%)
FFL 16.42 Decreased By ▼ -0.16 (-0.97%)
GGL 24.36 Decreased By ▼ -0.26 (-1.06%)
HBL 326.21 Increased By ▲ 1.59 (0.49%)
HUBC 213.42 Decreased By ▼ -12.22 (-5.42%)
HUMNL 10.81 Increased By ▲ 0.02 (0.19%)
KEL 7.48 Increased By ▲ 0.16 (2.19%)
LOTCHEM 27.75 Increased By ▲ 0.61 (2.25%)
MLCF 102.98 Increased By ▲ 0.91 (0.89%)
OGDC 323.78 Increased By ▲ 4.59 (1.44%)
PAEL 43.90 Increased By ▲ 0.02 (0.05%)
PIBTL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
PIOC 276.19 Increased By ▲ 1.35 (0.49%)
PPL 229.47 Increased By ▲ 7.92 (3.57%)
PRL 70.11 Increased By ▲ 6.36 (9.98%)
SNGP 103.66 Decreased By ▼ -0.13 (-0.13%)
SSGC 27.11 Decreased By ▼ -0.17 (-0.62%)
TELE 8.72 Increased By ▲ 0.10 (1.16%)
TPLP 15.68 Increased By ▲ 0.70 (4.67%)
TRG 61.13 Decreased By ▼ -2.16 (-3.41%)
UNITY 12.04 Increased By ▲ 0.53 (4.6%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، جو ایک روز قبل دو ہفتوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھیں۔ سرمایہ کاروں کی توجہ امریکہ کی نئی ٹیرف پالیسیوں اور ان کے ممکنہ اثرات پر مرکوز ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 15 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 0601 جی ایم ٹی پر فی بیرل 70 ڈالر ہو گئی۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آءی) کروڈ 16 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے ساتھ فی بیرل 68.17 ڈالر پر آ گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے نفاذ کی تاریخ میں توسیع نے جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی یونین جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کو کچھ امید دلائی ہے کہ تجارتی محصولات میں نرمی کے لیے مذاکرات کا امکان موجود ہے۔ تاہم جنوبی افریقہ جیسے چھوٹے برآمد کنندگان اور بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے صورتحال اب بھی غیر واضح ہے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کی ڈیڈ لائن کو یکم اگست تک مؤخر کر دیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ اس بار “کسی قسم کی مزید توسیع نہیں دی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے درآمدی تانبے پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے اور سیمی کنڈکٹرز و دواسازی پر طویل عرصے سے زیر غور محصولات جلد لاگو کرنے کا اعلان بھی کیا، جس سے عالمی مارکیٹس میں مزید اضطراب پیدا ہوا۔

اگرچہ ٹیرف کے باعث تیل کی طلب میں کمی کا خدشہ ہے، تاہم امریکہ میں یومِ آزادی کی تعطیلات کے دوران ریکارڈ سفری رجحانات نے طلب میں اضافے کی امید پیدا کی ہے۔ ٹریول گروپ اے اے اے کے مطابق، اس سال 4 جولائی کی تعطیلات کے موقع پر تقریباً 72.2 ملین امریکی 80 کلومیٹر سے زائد سفر کریں گے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

دوسری جانب، امریکی توانائی معلوماتی ادارے (ای آئی اے) نے منگل کے روز اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہا کہ 2025 میں امریکہ کی تیل پیداوار گزشتہ اندازوں سے کم رہے گی، کیونکہ قیمتوں میں کمی کے سبب پیداوار کی سرگرمیوں میں سست روی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں پیداوار 13.37 ملین بیرل یومیہ متوقع ہے، جو پچھلے مہینے کے 13.42 ملین بیرل کے تخمینے سے کم ہے۔

اُدھر اوپیک پلس نے ستمبر کے لیے تیل کی پیداوار میں مزید اضافہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ گروپ نے پہلے ہی اگست کے لیے 548,000 بیرل یومیہ اضافے کی منظوری دے دی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب تک عملی اضافہ اعلانات سے کم رہا ہے، اور زیادہ تر اضافی فراہمی سعودی عرب کی طرف سے کی گئی ہے۔

ادھر، یمن کے ساحل کے قریب ایک یونانی آپریٹڈ بحری جہاز پر ڈرون اور سپیڈ بوٹ حملے میں چار سیفیر ہلاک ہو گئے، جو کئی مہینوں کے سکون کے بعد ایک ہی دن میں پیش آنے والا دوسرا واقعہ ہے۔ اس طرح کے جیو پولیٹیکل خدشات نے قیمتوں کو گرنے سے روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔

Comments

Comments are closed.