BR100 Increased By (0.1%)
BR30 Increased By (0.11%)
KSE100 Increased By (0.11%)
KSE30 Increased By (0.27%)
BAFL 57.10 Increased By ▲ 0.36 (0.63%)
BIPL 26.80 Decreased By ▼ -0.24 (-0.89%)
BOP 33.56 Decreased By ▼ -0.12 (-0.36%)
CNERGY 10.60 Increased By ▲ 0.79 (8.05%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 210.45 Increased By ▲ 2.58 (1.24%)
FABL 98.90 No Change ▼ 0.00 (0%)
FCCL 53.78 Increased By ▲ 0.26 (0.49%)
FFL 16.43 Decreased By ▼ -0.25 (-1.5%)
GGL 23.88 Increased By ▲ 0.31 (1.32%)
HBL 302.76 Decreased By ▼ -1.63 (-0.54%)
HUBC 219.60 Increased By ▲ 1.49 (0.68%)
HUMNL 10.50 Decreased By ▼ -0.16 (-1.5%)
KEL 7.23 Decreased By ▼ -0.12 (-1.63%)
LOTCHEM 29.50 Increased By ▲ 0.39 (1.34%)
MLCF 96.68 Increased By ▲ 1.18 (1.24%)
OGDC 318.45 Increased By ▲ 0.51 (0.16%)
PAEL 41.90 Increased By ▲ 0.07 (0.17%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.28 (1.7%)
PIOC 297.50 Increased By ▲ 17.49 (6.25%)
PPL 219.88 Increased By ▲ 0.14 (0.06%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.00 Decreased By ▼ -1.49 (-1.39%)
SSGC 29.00 Increased By ▲ 0.07 (0.24%)
TELE 8.83 Increased By ▲ 0.07 (0.8%)
TPLP 12.31 Increased By ▲ 0.21 (1.74%)
TRG 60.30 Increased By ▲ 0.27 (0.45%)
UNITY 10.03 Decreased By ▼ -0.08 (-0.79%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

تاجر برادری کو ایک نئی انکم ٹیکس شق پر عمل درآمد کے دوران عملی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے تحت فی لین دین 2 لاکھ روپے سے زائد کی نقد فروخت پر ہونے والے اخراجات کا 50 فیصد ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔

یہ نئی شق فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے متعارف کرائی گئی ہے اور یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔

ٹیکس ماہرین نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 24 میں کی گئی ترمیم، جس کے تحت 2 لاکھ روپے سے زائد کی نقد فروخت پر ہونے والے اخراجات کا آدھا حصہ منہا نہیں کیا جا سکتا، نے کاروباری حلقوں میں خاصی تشویش پیدا کر دی ہے۔

ردِعمل کے طور پر، کئی کمپنیوں نے اپنے صارفین کو سرکلرز جاری کیے ہیں جن میں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نقد ادائیگیوں یا بینک اکاؤنٹس میں نقد رقم جمع کرانے سے گریز کریں تاکہ قانون کی پاسداری ممکن ہو سکے۔

تفصیلات کے مطابق، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 24 کے تحت متعارف کرائی گئی یہ شق صرف اُس آمدنی پر لاگو ہوتی ہے جو ”انکم فرام بزنس“ کے تحت شمار کی جاتی ہے جیسا کہ سیکشن 18 میں بیان کیا گیا ہے۔

یہ شق فی ٹرانزیکشن 2 لاکھ روپے سے زائد کی نقد فروخت پر کیے گئے اخراجات کا 50 فیصد منہا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

قانون سازی کے انداز اور شق کی جگہ کے مطابق، یہ پابندی کرایہ کی آمدنی (سیکشن 15)، کیپیٹل گینز (سیکشن 37)، یا دیگر ذرائع آمدن (سیکشن 39) پر لاگو نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ صرف کاروباری آمدنی تک محدود ہے اور ان افراد یا اداروں پر لاگو نہیں ہوتی جو کسی اور زمرے میں آمدن حاصل کر رہے ہوں۔

اسی طرح، انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 21 کے تحت بھی ان افراد یا اداروں کو کی جانے والی ادائیگیوں پر 10 فیصد اخراجات منہا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی جن کا نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) نہیں ہوتا۔ یہ شق بھی صرف ”انکم فرام بزنس“ کے تحت لاگو ہوتی ہے اور دیگر آمدنی کے ذرائع پر اثر انداز نہیں ہوتی۔

سیکشن 21 کے تحت دی گئی یہ ممانعت کرایہ کی آمدنی (سیکشن 15)، تنخواہ (سیکشن 12)، کیپیٹل گینز (سیکشن 37 / 37A) اور دیگر ذرائع آمدن (سیکشن 39) سے حاصل کردہ آمدنی پر لاگو نہیں ہوتی۔

ٹیکس ماہرین کے مطابق، سیکشن 24 (نقد فروخت) اور سیکشن 21 (نان-این ٹی این ادائیگیاں) کے تحت دی گئی دونوں پابندیاں صرف اُن ٹیکس گزاروں پر لاگو ہوتی ہیں جن کی آمدنی کاروباری آمدنی کے زمرے میں آتی ہے۔ ان کا اطلاق کرایہ، تنخواہ، کیپیٹل گین یا دیگر غیر کاروباری آمدن پر نہیں ہوتا، جب تک کہ قانون میں اس کے برعکس کوئی واضح حکم شامل نہ کیا گیا ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.