آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے گرڈ کنکشن چارجز کو معقول بنانے، کنکشن کے حصول کا دورانیہ کم کرنے، اور فرنس آئل (ایف او) پر عائد پیٹرولیم و کاربن لیوی عارضی طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
** چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے وزیر توانائی سردار اویس لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ڈائریکٹر جنرل ٹیکسٹائل (وزارت تجارت) کو ارسال کردہ خطوط میں کہا ہے کہ حکومت نے صنعتی شعبے میں کیپٹیو جنریشن لوڈز کو گرڈ سے بجلی پر منتقل کرنے کی پالیسی اختیار کرلی ہے۔**
تاہم عائد کردہ پیٹرولیم اور کاربن لیویز نے صنعتی سرگرمیوں کو مالی طور پر غیر مستحکم بنا دیا ہے جبکہ گرڈ سے بجلی کے حصول کے لیے کوئی مؤثر اور قابلِ عمل نظام بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
اپٹما کا مؤقف ہے کہ کیپٹیو پاور جنریشن کے لیے استعمال ہونے والی گیس پر 791 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو لیوی کا نفاذ اسے مکمل طور پر ناقابلِ برداشت بنا چکا ہے، اگرچہ اس اقدام کا مقصد صنعتوں کو بجلی کے قومی گرڈ پر منتقل کرنا ہے مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ کئی صنعتی یونٹس تاحال گرڈ سے منسلک نہیں ہو سکے جس کے باعث وہ مجبوری میں فرنس آئل پر مبنی کیپٹیو پاور جنریشن کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق فرنس آئل پر 82 ہزار روپے فی ٹن پیٹرولیم لیوی کا نفاذ — جو کہ پہلے ہی تقریباً 130,000 روپے فی ٹن کی بنیادی قیمت پر لاگو ہے — ان صنعتوں کو معاشی طور پر قابلِ برداشت توانائی کے ذریعے سے محروم کرچکا ہے۔
اپٹما نے سورتی انٹرپرائزز کی مثال دی ہے، جو سالانہ 400 ملین ڈالر کی برآمدات کے ساتھ ایک بڑی ٹیکسٹائل و گارمنٹس صنعت ہے اور اپنے مختلف شعبہ جات میں 35 ہزار افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔ سورتی کی دو ملز ہیں: ایک لانڈھی میں کے الیکٹرک کے تحت اور دوسری سپر ہائی وے پر حیسکو کے دائرہ کار میں، جنہیں مجموعی طور پر 35 میگاواٹ بجلی درکار ہے۔
گیس پر عائد کیے گئے گرڈ ٹرانزیشن لیوی کے بعد سورتی انٹرپرائزز کی دونوں ملز نے گیس سے فرنس آئل پر مبنی کیپٹو جنریشن پر منتقل ہونا شروع کیا جو تقریباً 33 روپے فی یونٹ (کے ڈبلیو ایچ) پڑتی ہے، جبکہ گرڈ سے بجلی کی لاگت تقریباً 29 سے 30 روپے فی یونٹ ہے۔ تاہم فرنس آئل پر عائد نئے لیویز کے بعد یہ لاگت بڑھ کر 51 روپے فی یونٹ تک جا پہنچے گی۔
کمپنی کی ترجیح ہے کہ وہ اپنی ملز کو کے الیکٹرک (کے ای) اور حیسکو کے تحت بجلی کے گرڈ سے منسلک کرے کیونکہ یہ فرنس آئل پر مبنی کیپٹو جنریشن کے مقابلے میں پہلے ہی سستی ہے۔ تاہم کے ای اور حیکسو نے ان دونوں یونٹس کو گرڈ سے منسلک کرنے کے لیے بالترتیب 8، 8 ارب روپے، یعنی مجموعی طور پر 16 ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ دیا ہے، جو کہ پیشگی ادا کرنا ہوں گے۔ مزید یہ کہ کمپنی کو بتایا گیا ہے کہ گرڈ کنکشن کی فراہمی میں تقریباً 3 سال لگیں گے اور اس مدت میں بروقت تکمیل یا بجلی کی فراہمی کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔
اس کے علاوہ کمپنی کو متعدد سرکاری اداروں — جیسے ایف ڈبلیو او، ریلوے، مقامی اتھارٹیز وغیرہ — سے منظوری حاصل کرنے کی بھی ذمہ داری اٹھانا ہوگی، جس سے اخراجات اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال مکمل طور پر ناقابلِ برداشت اور غیر پائیدار بن چکی ہے۔
کمپنی آئندہ تین سال تک گیس یا فرنس آئل پر مبنی بجلی پیدا کرنے پر انحصار نہیں کر سکتی کیونکہ بھاری لیوی کے باعث یہ ماڈل ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور کاروبار بند ہونے کا خطرہ ہے۔ تاہم، 16 ارب روپے کی خطیر رقم پیشگی ادا کر کے بھی اگر بروقت گرڈ سے بجلی کی فراہمی کی کوئی ضمانت نہ ہو تو یہ راستہ بھی دیوالیہ پن کی طرف لے جائے گا۔ یوں کمپنی ایک بند گلی میں کھڑی ہے جہاں اس کے پاس کوئی قابلِ عمل راستہ باقی نہیں بچا۔
اپٹما نے کہا کہ اگرچہ ہم نے صرف ایک کمپنی — اور وہ بھی پاکستان کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک — کی مثال دی ہے لیکن ہمارے متعدد اراکین کو یہی مسائل درپیش ہیں، خاص طور پر شہری مراکز جیسے لاہور اور کراچی میں جہاں راستے کے حقوق اور زمین کی دستیابی جیسے مسائل عام ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی کمپنی اربوں روپے ادا کر کے گرڈ کنیکشن لینے کی متحمل نہیں ہو سکتی، خاص طور پر جب بروقت تکمیل کی کوئی ضمانت بھی نہ دی جا رہی ہو۔
ایک طرف صنعت کو متبادل ایندھن جیسے گیس اور فرنس آئل استعمال کرنے پر سزا دی جا رہی ہے، اور دوسری طرف اسے گرڈ سے بجلی لینے سے مؤثر طور پر روک دیا گیا ہے کیونکہ گرڈ کنیکشن کے اخراجات بہت زیادہ، دورانیہ طویل، اور سرکاری رکاوٹیں حد سے زیادہ ہیں۔ ایسی صورت میں حکومت کی جانب سے صنعت کو گرڈ پر منتقل ہونے کا تقاضا نہ تو معقول ہے اور نہ ہی قابلِ عمل، جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں خود اس عمل کی راہ میں ناقابلِ عبور رکاوٹیں کھڑی کررہی ہیں۔
مندرجہ بالا حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپٹما نے درج ذیل تجاویز پیش کی ہیں:
برآمدی صنعتوں کو گرڈ کنیکشن فراہم کرنے کے چارجز کو معقول سطح پر لایا جائے تاکہ وہ مالی طور پر قابلِ برداشت ہوں۔ ڈیمانڈ نوٹس مکمل کرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے اندر گرڈ کنیکشن فراہم کر کے مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔ جب تک وہ صنعتی یونٹس جو گیس یا فرنس آئل پر انحصار کر رہے ہیں انہیں قابلِ استطاعت اور فعال گرڈ کنیکشن فراہم نہیں کیے جاتے، اُس وقت تک کیپٹو پاور جنریشن پر تمام لیویز — بشمول فرنس آئل پر پیٹرولیم و کاربن لیوی — معطل کی جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.