ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ پاکستان اور گیلپ پاکستان کی جانب سے اپریل سے مئی 2025 کے دوران کیے گئے انٹرویوز کی بنیاد پر صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جس میں مجموعی معاشی حالات اور انفرادی کمپنیوں کی مالی صورت حال پر اعتماد کو مدِنظر رکھا گیا۔
ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ کا بنیادی مقصد کاروباری اداروں کو معلومات فراہم کرنا ہے — جن میں کریڈٹ انفارمیشن رپورٹس، بزنس ریٹنگز اور کمپلائنس سلوشنز شامل ہیں — تاہم اس کی آن لائن موجودگی محدود ہے۔ مثال کے طور پر، لنکڈاِن پر اس کے صرف 14 ہزار کے لگ بھگ فالوورز ہیں جن کے بارے میں غالب گمان یہی کیا جا سکتا ہے کہ وہ زیادہ تر، اگر مکمل طور پر نہیں، تو کاروباری برادری سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں بڑی، درمیانی یا چھوٹی سطح کی کمپنیاں شامل ہیں یا ان سب کا امتزاج ہے۔
گیلپ پاکستان سیاسی، سماجی اور معاشی موضوعات پر ڈیٹا جمع کرنے اور مرتب کرنے کا کام کرتا رہا ہے، لہٰذا یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے حساب کتاب میں ان دونوں اداروں کی مشترکہ کاوش کاروباری برادری کے ساتھ عوامی رائے کے حوالے سے بھی بہتر بصیرت فراہم کرتی ہے۔
یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) جنوری سے مارچ 2025 کے دوران 96.2 کی بلند ترین سطح پر تھا، جو اپریل تا مئی 2025 میں 88.1 تک گرگیا — واضح رہے کہ اس اشاریے میں 100 کو غیر جانبدار حد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس سے کم اسکور صارفین کے منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس تناظر میں دو اہم مشاہدات سامنے آتے ہیں۔
اول یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا تین ماہ (جنوری تا مارچ) کے ڈیٹا کو دو ماہ (اپریل تا مئی) کے ڈیٹا کے مقابل رکھنے میں کسی قسم کے دباؤ یا اثر و رسوخ کا کوئی عنصر شامل تھا یا نہیں، خصوصاً اس صورت میں جب اس اشاریے کا تعلق کسی اہم میکرو اکنامک اشارے سے نہیں تھا جو بجٹ بنانے والوں کے لیے ممکنہ طور پر معاون ثابت ہوسکتے تھے۔ دوم اگرچہ اسکور اب بھی 100 سے کم ہے جو کہ مایوسی کی علامت ہے، لیکن یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ جب بجٹ کو متعدد ماہرین معاشیات حقیقت سے دور قرار دے رہے ہیں، تو ایسی صورت میں 8 پوائنٹس کی بہتری کو کیوں نمایاں طور پر اجاگر کیا جا رہا ہے؟
تاہم، صارفین کے جذبات چار عوامل کی بنیاد پر طے کیے گئے:(1) گھریلو مالی صورتحال،(2) ملکی معاشی حالات،(3) بے روزگاری، اور(4) گھریلو بچتیں۔ یہ بنیادیں دیکھ کر یہ دعویٰ کہ صارفین کے جذبات میں بہتری آئی ہے، خاصا حیران کن معلوم ہوتا ہے، کیونکہ نجی شعبے سے وابستہ ملازمین کے لیے گھریلو مالی صورتحال بدستور تشویش کا باعث ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں سے یا تو ان کی تنخواہیں منجمد رہی ہیں یا مہنگائی کی شرح سے کم اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتِ حال سرکاری شعبے کے ان 7 فیصد ملازمین پر لاگو نہیں ہوتی، جن کی تنخواہوں میں ہر سال مہنگائی سے زائد اضافے کا بجٹ میں بندوبست کیا جاتا ہے — اور یہ سب ٹیکس دہندگان کی لاگت پر۔
ملکی معاشی صورتحال میں بہتری ضرور آئی ہے کیونکہ اختتامی مالی سال میں معاشی نمو مثبت رہی تاہم اس کے باوجود یہ حقیقت پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر اب بھی چین سے لیے گئے 16 ارب ڈالر کے رول اوورز کے مرہونِ منت ہیں۔ اگرچہ اطلاعات کے مطابق چین نے 1.8 ارب ڈالر کے قرضے کی مدت میں توسیع پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن وہ رعایتی قرضوں، ترجیحی خریدار کریڈٹ اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف چائنا سے حاصل کردہ قرضوں کی ازسرنو شیڈولنگ کے لیے آمادہ نظر نہیں آتا۔
اگرچہ روپیہ اور ڈالر کے درمیان شرحِ تبادلہ حیران کن طور پر مستحکم نظر آتی ہے، تاہم یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف مارکیٹ اور انٹربینک ریٹ کے درمیان فرق سے بھی سخت شرط عائد کر سکتا ہے۔
غیر جانبدار ماہرینِ معیشت کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 20 فیصد سے زائد ہے جبکہ گھریلو بچتیں — جو زیادہ تر نیشنل سیونگز سینٹر میں جمع ہیں — آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں 164 ارب روپے سے کم ہو کر 141.2 ارب روپے تک گرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں متوقع کمی ہے، جس کے باعث سود کی ادائیگیوں میں نمایاں کمی کی امید کی جا رہی ہے — جو نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق 2024-25 میں موجودہ اخراجات کا 54.5 فیصد تھیں اور 2025-26 میں غیر حقیقی حد تک کم ہو کر 50.3 فیصد دکھائی جا رہی ہیں۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہے کہ عوامی اور کاروباری جذبات مارکیٹ کے حالات پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن یہ کسی بھی وقت اچانک بدل سکتے ہیں — جیسا کہ 1997 کے ایشیائی مالیاتی بحران میں واضح طور پر دیکھا گیا۔
پاکستان میں اسٹیٹ بینک باقاعدگی سے کاروباری اعتماد (بزنس سینٹیمنٹ) پر مبنی سروے کرتا ہے، جسے مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کاروباری اعتماد میں بہتری آئی ہے جو پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گا۔ تاہم، بڑی صنعتوں کی پیداوار ( ایل ایس ایم ) کا اشاریہ گزشتہ تین سال سے منفی دائرے میں موجود ہے۔ سروے تمام ممالک میں اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، مگر پاکستان کے تناظر میں ضروری ہے کہ مارکیٹ سینٹیمنٹ کو ایل ایس ایم جیسے بنیادی اور کلیدی صنعتی اعداد و شمار کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ پالیسی بیانیہ زیادہ معتبر اور قابلِ اعتماد بن سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.