حکومتِ پنجاب رواں سال میں متعدد ماحول دوست اقدامات پر عملدرآمد کررہی ہے جن میں وسیع پیمانے پر شجر کاری کلائمٹ آبزرویٹری کا قیام، الیکٹرک گاڑیوں اور گرین ٹیکنالوجیز کے فروغ جیسے اقدامات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت ماحولیاتی آلودگی میں کمی پر بھی توجہ دے رہی ہے، جس کے لیے 75 مائیکرون سے کم موٹائی والے پلاسٹک بیگز پر پابندی اور اسموگ کے تدارک کے لیے منصوبے پر عملدرآمد جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب گرین پروگرام کے تحت وسیع پیمانے پر شجرکاری اور ماحولیاتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پلانٹ فار پاکستان انیشی ایٹو کے تحت 50,869 ایکڑ رقبے پر 4 کروڑ 20 لاکھ درخت لگانے کا جامع منصوبہ بنایا گیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ ایگرو فاریسٹری انیشی ایٹو کے تحت جنگلات کے غیر استعمال شدہ 3,790 ایکڑ رقبے پر تقریباً 13 لاکھ 75 ہزار درخت لگائے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گرین پاکستان پروگرام کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے، اور 2 لاکھ 51 ہزار ایکڑ رقبے پر 46 کروڑ 64 لاکھ 63 ہزار درختوں کی شجرکاری جاری ہے۔ پنجاب کے نہری علاقوں میں 10,223 ایونیو میل کے دائرے میں قطاروں میں 50 لاکھ درخت لگانے کا عمل بھی فعال کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لال سوہانرانیشنل پارک اور سالٹ رینج میں ماحولیاتی سیاحت کے فروغ کے لیے عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ ماحولیاتی سیاحت کے لیے وائرلیس نیٹ ورک، ڈیجیٹل کیمرے، جی پی ایس آلات اور سی سی ٹی وی کیمرے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مری اور کہوٹہ کے پہاڑوں میں آفات سے بچاؤ کے لیے شیلڈنگ سمٹس پروگرام، 600 فائر واچرز کی بھرتی، آگ بجھانے والی گاڑیوں اور واچ ٹاورز کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جنگلاتی راستوں کی بحالی اور چشمے کے پانی کے ذخائر کی تعمیر بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ جدید جی ائی ایس پر مبنی حفاظتی نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے ڈرون، سیٹلائٹ اور ایل آئی ڈی اے آر ٹیکنالوجی کی مدد سے آگ اور تجاوزات کی فوری نشاندہی ممکن ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ ڈیجیٹل کمیونیکیشن سیل قائم کیا گیا ہے، جنگلاتی محکمہ کے مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن ونگ کو جدید نگرانی کے آلات اور اضافی عملہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں قطاروں کی صورت میں ڈیجیٹل درختوں کی گنتی اور جی آئی ایس پر مبنی سروے کا آغاز کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جنگلات کے کام کیلئے جدید مشینری خریدی گئی ہے، پودا کاری اور جنگلاتی عملیات کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں 24 گھنٹے نگرانی کے لیے 104 جنگلاتی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کے قیام سے جنگلات کے تحفظ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.