پاکستان کے بیرونی کھاتوں کی صورتحال تسلی بخش ہے، وزیر خزانہ
- پاکستان نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں عالمی منڈی سے 3 ارب ڈالر حاصل کیے تھے، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈی تک رسائی حاصل کرتے ہوئے یورو بانڈز کے اجرا سے 3 ارب ڈالر حاصل کرلیے ہیں، جس کے بعد ملک کے بیرونی کھاتوں کی صورتحال تسلی بخش ہے۔ سعودی عرب نے بھی پاکستان کے 3 ارب ڈالر کے قرض کی مدت میں توسیع کردی ہے۔
بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت ملے یا نہ ملے، پاکستان اپنے بیرونی کھاتوں کو بہتر انداز میں سنبھالنے کی پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ امریکا سے درخواست کردہ رقم قرض کی سہولت یا یقینی مالی معاونت نہیں بلکہ لیکویڈیٹی سپورٹ پروگرام کے تحت مانگی گئی تھی۔ ان کے مطابق اگر یہ سہولت مل جاتی ہے تو اچھی بات ہوگی، تاہم اس کے بغیر بھی پاکستان اپنی مالی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں عالمی منڈی سے 3 ارب ڈالر حاصل کیے تھے، جبکہ حکومت مزید یورو بانڈز، پانڈا بانڈز اور ڈالر میں ادائیگی والے بانڈز جاری کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ یورو بانڈز پانچ اور 10 سالہ مدت کے لیے جاری کرنے کی تیاری ہے تاکہ مستقبل میں قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ ایک ہی سال میں جمع نہ ہو۔
انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے قرض کی مدت میں توسیق کی تصدیق کی، تاہم اس کی نئی مدت بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو فی الحال سعودی عرب سے مزید مالی معاونت کی ضرورت نہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کی مجموعی بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں 21.5 ارب ڈالر ہیں، جن میں 17 ارب ڈالر اصل قرض اور 4 ارب ڈالر سود شامل ہیں۔ اس میں سے 7.3 ارب ڈالر دوطرفہ قرضوں کی مدت میں توسیع کے ذریعے دستیاب ہیں، جبکہ باقی 14 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنا ہوگی۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں 5 ارب ڈالر ادا کرچکی ہے، جبکہ باقی سات ماہ میں مزید 6 ارب ڈالر کی ادائیگی متوقع ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کا سرکاری قرض مالی سال 2023 میں مجموعی قومی پیداوار کے 75.1 فیصد سے کم ہوکر مالی سال 2026 میں 68.6 فیصد رہ گیا ہے۔ مجموعی سرکاری قرض 86.7 ہزار ارب روپے، اضافی قرض گیری 6.86 ہزار ارب روپے اور مجموعی مالی ضروریات 28.65 ہزار ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر ہیں، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ حکومت رواں مالی سال کے اختتام تک درآمدی گنجائش چار ماہ تک بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس دسمبر میں متوقع ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026