2026 کے فیفا ورلڈ کپ کا ہر میچ سیالکوٹ میں تیار کردہ فٹ بال سے کھیلا گیا۔ ایڈیڈاس ٹرائونڈا نامی اس فٹ بال میں ایک موشن سینسر نصب تھا، جو ریفریز کو ڈیٹا فراہم کرتا تھا۔ اس فٹ بال کو تیار کرنے والی کمپنی فارورڈ اسپورٹس اب مسلسل چار فیفا ورلڈ کپ کے لیے فٹ بال فراہم کر چکی ہے۔
اس کمپنی نے ایسی جدید مصنوعات تیار کرنا اپنے ملک کی مقامی مارکیٹ میں فروخت کرکے نہیں سیکھا، بلکہ اس نے کھیلوں کی دنیا کے سب سے زیادہ سخت معیار رکھنے والے خریداروں کو مصنوعات فروخت کرکے یہ مہارت حاصل کی۔ماہرینِ معاشیات اس عمل کو برآمدات کے ذریعے سیکھنا (Learning by Exporting) کہتے ہیں۔
بیرونِ ملک مصنوعات فروخت کرنے سے نہ صرف ڈالر حاصل ہوتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ علم اور تجربہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ اس عمل میں کمپنیوں کو خریداروں کی جانب سے مقرر کردہ معیار، فیکٹریوں کے معائنے، مسترد ہونے والی مصنوعات، مشترکہ ڈیزائننگ اور دنیا کی بہترین حریف کمپنیوں کے ساتھ مقابلے کا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔
ایک ایسے ملک کے لیے جس کی برآمدات طویل عرصے سے تقریباً 31 ارب امریکی ڈالر کے آس پاس محدود ہیں، یہ ایک نہایت اہم پہلو ہے جسے پالیسی سازوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
درحقیقت جدت و اختراع معاشی ترقی میں 85 فیصد تک کردار ادا کرتی ہے اور موجودہ عالمگیریت کے دور میں مسابقت، بقا اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔
پاکستان میں جدت و اختراع کے عملی نفاذ اور ادارہ جاتی ڈھانچے کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔ ملک میں اس حوالے سے ایک ملی جلی تصویر سامنے آتی ہے۔ جہاں روایتی مینوفیکچرنگ اور عالمی سطح پر جدت و اختراع کی مجموعی درجہ بندی میں پاکستان اپنے علاقائی حریفوں سے پیچھے ہے، وہیں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کی برآمدات کے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔
ایشیا بھر میں ہونے والی مختلف تحقیقات اس بات کے ٹھوس شواہد فراہم کرتی ہیں کہ برآمدات کمپنیوں کو سیکھنے اور ترقی کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔
جنوبی کوریا کی وہ فیکٹریاں جنہوں نے 1990 کی دہائی میں برآمدات شروع کیں، ان کی پیداواری صلاحیت میں مقامی مارکیٹ تک محدود رہنے والی کمپنیوں کے مقابلے میں کئی سال تک مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ یہ فرق بالخصوص ان کمپنیوں میں زیادہ نمایاں تھا جہاں ہنرمند افرادی قوت کا کردار اہم تھا۔
چینی کمپنیوں پر 2024 میں ہونے والی ایک تحقیق میں پیٹنٹ حوالہ جات کا جائزہ لے کر یہ معلوم کیا گیا کہ بیرونی منڈیوں سے برآمد کنندگان تک علم اور ٹیکنالوجی منتقل ہوتی ہے، جس سے ان کی جدت و اختراع کی مقدار اور معیار دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسی طرح جاپانی کمپنیوں نے جب شمالی امریکا اور یورپ کی منڈیوں میں برآمدات شروع کیں تو انہیں تحقیق و ترقی اور پیداواری صلاحیت کے حوالے سے ان کمپنیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ فوائد حاصل ہوئے جو صرف ایشیائی منڈیوں میں مصنوعات فروخت کرتی تھیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت معیار رکھنے والی عالمی منڈیاں کمپنیوں کو زیادہ سیکھنے اور بہتر ہونے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔
ویتنام میں سام سنگ نے اپنے کوریائی ماہرین کو مقامی سپلائرز کی تربیت کے لیے بھیجا۔ اس تربیت کے نتیجے میں سرکٹ بورڈ تیار کرنے والی ایک کمپنی نے صرف تین ماہ میں کوالٹی کنٹرول کے دوران مسترد ہونے والی مصنوعات کی شرح میں 68.5 فیصد کمی کر دی۔
بنگلہ دیش میں ڈیش گارمنٹس نے 1979 میں اپنے تقریباً 130 ملازمین کو جنوبی کوریا کی کمپنی ڈائیوو میں تربیت کے لیے بھیجا۔ بعد ازاں ان میں سے تقریباً تمام ملازمین نے ملازمت چھوڑ کر اپنی فیکٹریاں قائم کر لیں۔ آج بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری اس کی برآمدات میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
جب چین کی مشینوں سے تیار کردہ فٹ بال نے 2010 کے ورلڈ کپ کے لیے سیالکوٹ کے ہاتھ سے سلے ہوئے فٹ بال کو پیچھے چھوڑ دیا تو فارورڈ اسپورٹس نے ایڈیڈاس کے تقاضوں کے مطابق اپنے پیداواری نظام کو ازسرنو ترتیب دیا اور 2014 کے ورلڈ کپ کے لیے معاہدہ حاصل کر لیا۔
لاہور اسکول آف اکنامکس کی 377 ٹیکسٹائل اور ملبوسات تیار کرنے والی کمپنیوں پر مبنی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یورپ اور امریکا کو مصنوعات برآمد کرنے والی کمپنیاں جدت و اختراع کی جانب زیادہ راغب ہوتی ہیں، جبکہ برآمدات میں اضافے کے ساتھ تحقیق و ترقی پر اخراجات بھی بڑھتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مالی سال 2026 میں ریکارڈ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ عالمی ادارہ دانشورانہ ملکیت کے 2026 کے گلوبل انوویشن انڈیکس میں پاکستان مجموعی طور پر 95 ویں نمبر پر ہے، تاہم تجارتی حجم میں آئی سی ٹی سروسز کی برآمدات کے حوالے سے 15ویں نمبر پر ہے۔
تاہم پاکستان کو ایک بڑے مسئلے کا سامنا ہے۔ 1990 کی دہائی میں ملک کی برآمدات مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 16 فیصد کے برابر تھیں، جو 2024 میں کم ہو کر 10.4 فیصد رہ گئیں۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی ممکنہ برآمدات میں تقریباً 60 ارب امریکی ڈالر کی کمی موجود ہے۔
جنوبی ایشیا کی کمپنیاں اوسطاً اپنی آمدنی کا 12.5 فیصد تحقیق و ترقی پر خرچ کرتی ہیں، جبکہ پاکستان میں صرف 2.3 فیصد کمپنیاں تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔
مزید برآں گیلپ پاکستان کے ایک تجزیے کے مطابق سروے میں شامل مقامی کمپنیوں میں سے صفر فیصد نے ایسی مصنوعات متعارف کرائی تھیں جو ان کی مرکزی مارکیٹ کے لیے مکمل طور پر نئی تھیں۔
پاکستان اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 0.2 فیصد تحقیق و ترقی پر خرچ کرتا ہے، جبکہ چین اس مقصد کے لیے 2.4 فیصد مختص کرتا ہے۔
ایک عام پاکستانی برآمدی مصنوعات تقریباً اپنی ممکنہ عالمی منڈیوں کے دسویں حصے تک پہنچ پاتی ہے، جبکہ چین کی ایک عام برآمدی مصنوعات تقریباً 85 فیصد ممکنہ منڈیوں تک رسائی حاصل کرتی ہے۔
حکومت پاکستان نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور وزارتِ منصوبہ بندی کے ذریعے اسٹریٹجک مالی معاونت کے لیے کچھ فنڈز قائم کیے ہیں۔
ان میں پہلا پاکستان اسٹارٹ اپ فنڈ ہے، جو غیر ملکی وینچر کیپیٹل سرمایہ کاری کے معاہدوں میں معاونت کے لیے 30 فیصد تک ایکویٹی فری گرانٹس فراہم کرتا ہے۔ اس طرح ابتدائی مرحلے میں سرمایہ کاروں کے مالی خطرات کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
دوسرا پاکستان انوویشن فنڈ ہے، جو اربوں روپے پر مشتمل ترقیاتی فنڈ ہے۔ اس کے تحت مقامی ٹیکنالوجی کو تجارتی بنیادوں پر متعارف کرانے کے لیے فی منصوبہ 2 کروڑ روپے تک ابتدائی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس فنڈ کا خصوصی ہدف 5E فریم ورک کے تحت ٹیکنالوجی میں مقامی ترقی اور جدت کو فروغ دینا ہے۔
برآمدات میں اضافے کے لیے پاکستان کو سب سے پہلے اپنی داخلی پالیسیوں میں موجود ان رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا جو مقامی کمپنیوں کو برآمدات کے بجائے ملکی منڈی تک محدود رکھتی ہیں۔
اس مقصد کے لیے زیادہ درآمدی ٹیرف اور توانائی کی لاگت میں کمی، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے خصوصی بینکاری سہولیات اور سرٹیفکیشن کی معاونت کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کی ابتدائی رکاوٹیں کم کرنا ضروری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بیرونی علم اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔ اس مقصد کے لیے مشترکہ مالی معاونت کے تحت تحقیق و ترقی کے منصوبوں کی فنڈنگ، صنعتی مراکز میں ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا قیام اور صنعتوں کے ساتھ تعاون کرنے والی جامعات کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔
مزید برآں پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ سیکھنے اور تربیت کے شراکتی پروگرام شروع کرنے چاہئیں اور تجارتی معاہدوں کو نئے خطوں اور منڈیوں تک وسعت دینی چاہیے۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ سیالکوٹ نے ورلڈ کپ کے فٹ بال مقامی مارکیٹ میں فروخت کرکے تیار کرنا نہیں سیکھا، بلکہ عالمی منڈیوں کے سخت معیار اور تقاضوں سے سیکھ کر یہ مقام حاصل کیا۔
اگر پاکستان مزید فارورڈ اسپورٹس جیسی کمپنیاں پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ مقامی کاروباری اداروں کو دنیا کی سخت ترین اور مسابقتی عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے اور وہاں پہنچنے کے بعد انہیں سیکھنے، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے میں مدد دینی ہوگی۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر