پاکستان کا ایگزم بینک اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے برآمدی قرضے بڑھانے کا فیصلہ
- پاکستان نےنئی منڈیوں تک رسائی کے خواہش مند کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، وزیر تجارت
وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے برآمدی شعبے کے لیے مالی معاونت کو مضبوط بنانے کی غرض سے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کو فعال کرنے، برآمدی قرضوں کے طریقہ کار کو ڈیجیٹل بنانے اور رعایتی مالی سہولیات میں توسیع کے اقدامات کر رہا ہے، تاکہ برآمد کنندگان کے لیے قرضوں تک رسائی بہتر بنائی جا سکے اور عالمی منڈیوں میں ان کی مسابقتی صلاحیت بڑھائی جا سکے۔
وزیر تجارت نے منگل کو استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی و تجارتی تعاون (کومسیک) کے 42ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اجلاس کی صدارت ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے کی۔
اعلیٰ سطح کے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تجارت نے او آئی سی کے رکن ممالک کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ تجارتی انضمام میں اضافے سے اسلامی دنیا بھر میں مشترکہ خوشحالی کے وسیع مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
رواں سال کے اجلاس کے موضوع ’’او آئی سی کے رکن ممالک میں برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر تجارتی مالیاتی ذرائع کی ترقی‘‘ کو اجاگر کرتے ہوئے جام کمال نے سستے اور جدید مالیاتی حل تک رسائی بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو ایسی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ عالمی منڈیوں میں داخل ہو سکیں اور مسابقتی برآمد کنندگان بن سکیں۔
وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان نے اپنے تجارتی نظام کو جدید بنانے، برآمدات سے وابستہ خطرات کم کرنے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے خواہش مند کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) کو فعال بنانے کے اقدام کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ تجارتی قرضوں کی انشورنس، ضمانتیں اور قرضوں کی دوبارہ فراہمی کی سہولیات فراہم کرتا ہے، تاکہ برآمد کنندگان کو تحفظ دیا جا سکے اور انہیں او آئی سی کے رکن ممالک سمیت عالمی منڈیوں میں کاروبار بڑھانے میں مدد ملے۔
جام کمال نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان کاروباری اداروں کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ متبادل مالیاتی سہولیات فراہم کرنے کے لیے شریعت کے مطابق مالیاتی ذرائع میں بھی توسیع کر رہا ہے، جن میں مرابحہ، سلم اور اجارہ شامل ہیں۔
مالی سہولیات تک آسان رسائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان تجارتی بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو مربوط آن لائن پورٹلز کے ذریعے منسلک کرکے برآمدی قرضوں کے طریقہ کار کو ڈیجیٹل بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق ان اقدامات سے قرضوں کی درخواستوں پر کارروائی کا وقت کم ہوگا اور مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے مالی معاونت تک رسائی بہتر ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے اور بین الاقوامی تجارت میں ان کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو ممکن بنانے کے لیے رعایتی مالی سہولیات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
وزیر تجارت نے اسلامی چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ (آئی سی سی ڈی) کے صدر دفتر کی میزبانی کرنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور اسے 57 اسلامی ممالک کے نجی شعبوں کو آپس میں جوڑنے کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔
انہوں نے آئی سی سی ڈی کی مسلسل حمایت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ کاروباری طبقے اور پالیسی سازوں کے درمیان رابطے کا پل ہے، جو سرمایہ کاری، تجارتی شراکت داریوں اور او آئی سی کے رکن ممالک میں نجی شعبے کی مضبوط شمولیت کے فروغ میں مدد دیتا ہے۔
ابھرتے ہوئے عالمی اقتصادی چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے جام کمال نے ڈیجیٹل انضمام، مصنوعی ذہانت اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ تیز رفتار تکنیکی ترقی او آئی سی کے رکن ممالک کے لیے اپنی معیشتوں کو جدید بنانے، تجارتی مسابقت بہتر کرنے اور علاقائی اقتصادی روابط مضبوط بنانے کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔
وزیر تجارت نے کثیرالجہتی اقتصادی تعاون کے فروغ اور اسلامی ممالک کو درپیش مشترکہ تجارتی مسائل کے عملی حل تلاش کرنے میں کومسیک کے کردار کو سراہا۔