پی ٹی آئی کے وکیل کی اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات
- بیرسٹر سلمان صفدر کی دونوں سے 40 منٹ ملاقات، قانونی امور، صحت اور جیل میں حالات پر تبادلہ خیال
پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے پیر کے روز اڈیالہ جیل میں پارٹی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی، جہاں دونوں مختلف مقدمات میں قید کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔
سلمان صفدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ سات ماہ میں عمران خان سے یہ ان کی پہلی جبکہ بشریٰ بی بی سے 11 ماہ میں پہلی ملاقات تھی۔ ان کے بقول، 40 منٹ کی یہ ملاقات ’’تمام مقدمات اور قانونی امور پر بات چیت کے لیے ناکافی تھی‘‘۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں نے انہیں اپنی صحت اور جیل میں رہنے کے حالات سے آگاہ کیا اور مختلف مقدمات کے حوالے سے نئی ہدایات بھی دیں۔
سابق وزیراعظم سے سلمان صفدر کی آخری ملاقات کی اطلاع 8 اپریل کو سامنے آئی تھی، جب اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے ایک روز قبل حکام کو ملاقات کا انتظام کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس سے قبل 10 فروری کو سپریم کورٹ کے حکم پر بھی ملاقات ہوئی تھی، جس کے بعد عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات سامنے آئے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو اہل خانہ، وکلا اور قریبی ساتھیوں سے ہفتے میں دو مرتبہ، منگل اور جمعرات کے روز ملاقات کی اجازت دے رکھی ہے۔ تاہم، عدالتی احکامات کے باوجود گزشتہ چند ماہ کے دوران اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں تک ان کی رسائی بڑی حد تک محدود رہی ہے۔
عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (آنکھ کی مرکزی شبکیاتی رگ میں رکاوٹ) کی تشخیص ہوئی ہے، جس کا علم جنوری کے اواخر میں ہوا تھا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ان کے طبی طریقہ علاج کے تحت کچھ اقدامات کیے جا چکے ہیں، تاہم ان کا خاندان چاہتا ہے کہ انہیں اپنی پسند کے اسپتال منتقل کیا جائے۔
اپوزیشن حکومت پر عمران خان کے علاج کے حوالے سے شفافیت نہ رکھنے اور ان کے ذاتی معالجین کو رسائی نہ دینے کا الزام عائد کرتی ہے، تاہم حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
عمران خان 5 اگست 2023ء سے جیل میں ہیں، جب انہیں توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ اور بشریٰ بی بی القادر ٹرسٹ سے متعلق 190 ملین پاؤنڈ کے کرپشن کیس میں بھی 14، 14 سال قید کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔
دسمبر 2025ء میں دونوں کو توشہ خانہ کے ایک دوسرے مقدمے میں بھی سزا سنائی گئی تھی، جس کے تحت عمران خان کو 10 سال جبکہ بشریٰ بی بی کو سات سال قید کی سزا دی گئی۔ عمران خان کو 9 مئی 2023ء کے ہنگاموں سے متعلق دہشت گردی کے مقدمات کا بھی سامنا ہے۔
عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان نے ان کی رہائی کے مطالبے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر متعدد بار دھرنے دیے ہیں۔
تاہم، پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت ستمبر کے اواخر میں حراست میں لیے جانے کے بعد سے وہ مزید احتجاج نہیں کر سکیں، کیونکہ اس دوران پی ٹی آئی اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔