✕
دنیا

جنگ کے خاتمے کے لیے رابطے جاری، مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے، ایران

  • ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے بعد دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے
شائع اپ ڈیٹ

ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ آٹھ ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے رابطے بدستور جاری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب قطری ثالثوں کے ساتھ کئی روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے، تاہم تجاویز میں تبدیلی کی گئی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت جاری ہے، تاہم معاملہ پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی ہورہا ہے۔

امریکا میں منگل کو وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے پیش نظر چین اور روس نے بھی ممکنہ فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔ اس جنگ نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔

ایران کو معاہدے کے بجائے امریکی حملے کا خدشہ

تازہ ثالثی کے نتیجے میں سفارتی حل کی امید پر پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً 4 فیصد گر گئیں، تاہم ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی معاہدے کے مقابلے میں امریکا کے نئے حملے کا امکان زیادہ ہے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے ستمبر میں پیش کردہ منصوبہ مذاکرات کی بنیاد ہے، تاہم اس میں اختصار کیا جاسکتا ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ہفتے کو اس تجویز میں تبدیلی کا اشارہ دیا تھا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بنیاد اب بھی ایران کا سات نکاتی منصوبہ ہے، جسے مختصر کرکے دو دن میں قابلِ عمل بنایا جاسکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں ایران کی یہ تجویز مسترد کردی تھی۔ منصوبے کے تحت امریکا کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی، ایران آبنائے ہرمز کھولے گا، واشنگٹن ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی میں رعایت دے گا اور ایران پر نئی پابندیاں ختم کرے گا۔ اس کے بعد دیگر معاملات پر مذاکرات ہوں گے۔