✕
پاکستان

بھارت افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

فغان طالبان حکومت پاکستان کے خلاف حملوں میں پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
شائع اپ ڈیٹ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے خلاف حملوں میں پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے۔

فوج کے ترجمان نے رواں ہفتے کے اوائل میں خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ پاکستان سابق افغان حکومت کے عہدیداروں، فوجی شخصیات یا طالبان مخالف دیگر گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے افغان حکام کے مؤقف کی ساکھ پر بھی سوال اٹھایا۔

احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغانستان ایک غیر ریاستی کردار کے زیر انتظام ہے، جہاں کئی دہائیوں کی بیرونی مداخلت کے بعد متعدد مسلح گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر نے اپنے ٹھکانے قائم کرلیے ہیں۔

انہوں نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کرنے والے گروہ قرار دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے افغانستان میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم)، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (آئی ایم یو)، القاعدہ اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کی موجودگی کا بھی ذکر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں ایسے گروہوں کی موجودگی قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں ان گروہوں کی موجودگی کی تصدیق اقوام متحدہ کی رپورٹس اور امریکا سمیت دیگر ممالک کے انٹیلی جنس جائزوں سے بھی ہوتی ہے۔

افغانستان کو تنہا کرنے سے وہاں انسانی اور معاشی صورتحال مزید خراب ہونے کے خدشات پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو تنہا نہیں کرنا چاہتا بلکہ طالبان حکام سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ایک ریاست کی طرح ذمہ داریاں ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو دہشت گردی اور منشیات کی پیداوار کی سرپرستی بند کرنی چاہیے۔ ان کے بقول یہ دونوں افغانستان کی بڑی برآمدات بن چکی ہیں، جو خطے اور پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔

احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان افغان حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور ان سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر حملوں کی حمایت نہ کریں اور عسکریت پسندوں کے رہنماؤں کو پناہ نہ دیں۔

انہوں نے ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود، بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب اور گل بہادر کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ افراد افغانستان میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں حملوں کے لیے عسکریت پسندوں کو افرادی قوت، ہتھیار اور لاجسٹک معاونت بھی افغان سرزمین سے فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس واضح حکمت عملی اور اس قیمت کا احساس دلانے کی صلاحیت موجود ہے۔

ڈرونز اور جدید فوجی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جنگ کی نوعیت تبدیل ہوچکی ہے اور پاک فوج روایتی، سائبر اور نان کانٹیکٹ جنگ سمیت مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق خود کو تیار کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اور حوثیوں سمیت غیر ریاستی عناصر میں ڈرونز اور نان کانٹیکٹ جنگ کی دیگر صلاحیتوں کا پھیلاؤ مختلف ممالک کے لیے خطرہ ہے، جس کے پیش نظر انہیں اپنے سکیورٹی انتظامات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

افغان طالبان کی ڈرون صلاحیتوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ افغانستان کی اپنی کوئی ڈرون صنعت یا متعلقہ ٹیکنالوجی موجود نہیں اور اسے یہ آلات بیرونی سرپرستوں کی جانب سے فراہم کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ بھارت افغان طالبان کی معاونت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ گزشتہ تنازع کے دوران جدید ڈرونز کا مقابلہ کرنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرچکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج عملی طور پر پہلے سے زیادہ تیار ہے اور ممکنہ ڈرون خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

فوجی کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال سے متعلق سوال پر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاک فوج جدید جنگ کے لیے ضروری سمجھی جانے والی ٹیکنالوجیز اپنا رہی ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور سائبر صلاحیتوں کو کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہر قسم کی ٹیکنالوجیز استعمال کر رہے ہیں، ہماری فوج ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہے۔