✕
کاروبار اور معیشت

عالمی بینک نے سندھ میں پراپرٹی ٹیکس نظام کی بہتری کیلئے 15 کروڑ ڈالر منظور کرلئے

  • عالمی بینک کے مطابق سندھ پراپرٹی ریونیو انہانسمنٹ پروگرام (سندھ پریپ) کا مقصد شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس (یو آئی پی ٹی) کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلز کی بلدیاتی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے سندھ میں پراپرٹی ٹیکس وصولی بہتر بنانے اور بلدیاتی خدمات کی فراہمی مضبوط کرنے کے لیے 15 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی ہے۔ اس پروگرام کے تحت سندھ حکومت 20 مقامی کونسلز میں رجسٹرڈ شہری جائیدادوں کی تعداد 3 لاکھ 97 ہزار 375 سے بڑھا کر 21 لاکھ 50 ہزار سے زائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو موجودہ تعداد کے مقابلے میں پانچ گنا سے زیادہ ہے۔

عالمی بینک کے مطابق سندھ پراپرٹی ریونیو انہانسمنٹ پروگرام (سندھ پریپ) کا مقصد شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس (یو آئی پی ٹی) کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلز کی بلدیاتی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

عالمی بینک کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا کہ جو شہر اپنے وسائل سے آمدنی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ طویل المدتی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ کی مقامی کونسلز اپنی 95 فیصد سے زائد آمدنی کے لیے صوبائی حکومت سے ملنے والے فنڈز پر انحصار کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں پراپرٹی ٹیکس وصولی اور اس آمدنی کو مقامی خدمات پر خرچ کرنے سے شہروں کو بنیادی ڈھانچے کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

عالمی بینک کے مطابق کراچی اس وقت سالانہ تقریباً 85 لاکھ ڈالر پراپرٹی ٹیکس وصول کرتا ہے، جبکہ اسی حجم کے دیگر شہر اس سے 82 سے 350 گنا زیادہ آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ پروگرام کے تحت ٹیکس ادائیگی کی شرح 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کے ذریعے سالانہ وصولی 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پروگرام کے تحت جمع ہونے والی پراپرٹی ٹیکس آمدنی کا تقریباً 70 فیصد حصہ مقامی کونسلز میں بلدیاتی بنیادی ڈھانچے اور خدمات پر خرچ کیا جائے گا، جن میں نکاسی آب، سیوریج، اسکول، فائر اسٹیشن، سڑکیں اور اسٹریٹ لائٹس شامل ہیں۔

اس پروگرام سے کراچی کی 25 مقامی کونسلز کے 35 لاکھ 80 ہزار افراد براہ راست مستفید ہوں گے، جبکہ 4 کروڑ ڈالر کے اضافی منصوبے کے ذریعے کراچی کے علاوہ سندھ کے 20 شہری مراکز میں جائیدادوں کے سروے اور ٹیکس انتظامی نظام کو وسعت دی جائے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026