✕
پاکستان

پاکستان کا طالبان سے افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

  • شہریوں اور قومی سلامتی کو خطرہ ہوا تو دفاع کا حق استعمال کریں گے، قونصلر محمد جواد اجمل
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں، خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں ختم کریں اور افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرے گا۔

افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے ساتھ ایک مکالماتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قونصلر محمد جواد اجمل نے ملک میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشکلات سے دوچار افغان پناہ گزینوں کی مدد کی ذمہ داری میں حصہ دار بنے۔

محمد جواد اجمل نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی آزادیوں اور وقار سے محروم رکھنا طالبان کی جانب سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مسلسل پیچھے ہٹنے کا عکاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات اسلامی قوانین، روایات اور دینِ اسلام کے بنیادی اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے جولائی 2026 میں اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کی میزبانی کی تھی جس میں اسلام آباد اعلامیہ منظور کیا گیا۔ اعلامیے میں افغان خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

پاکستان کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے قونصلر نے کہا کہ ملک نے کئی دہائیوں کے دوران لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو پناہ دی جبکہ اس مقصد کے لیے اسے اکثر عالمی برادری کی جانب سے مناسب تعاون حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنی دستیاب استعداد کے مطابق مشکلات سے دوچار افغان شہریوں کی مدد اور سہولت کاری جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم عالمی برادری کو بھی اپنی کوششیں تیز کرنی چاہئیں اور اس ذمہ داری میں حصہ دار بننا چاہیے۔

سلامتی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جواد اجمل نے کہا کہ دہشت گردی افغانستان کو درپیش چیلنجز میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، مجید بریگیڈ، القاعدہ، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل۔کے) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت دیگر گروہوں اور ان سے وابستہ تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے طالبان اور ان دہشتگرد گروہوں کے درمیان روابط کا الزام بھی عائد کیا جبکہ پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے والے پراکسی عناصر کو بیرونی قوتوں کی جانب سے حمایت فراہم کیے جانے کا دعویٰ کیا۔

جواد اجمل نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ان گروہوں کی کھلے عام مذمت نہ کرنا ان کی ملی بھگت اور حمایت کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صرف گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

16 مارچ کو پاکستان کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فوجی تنصیبات اور دہشت گردوں کے معاون ڈھانچے کو انتہائی درست نشانہ بنایا، جن میں ڈرونز اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی وہ تنصیبات بھی شامل تھیں جنہیں مبینہ طور پر ٹی ٹی پی پاکستانی شہریوں پر حملوں کے لیے استعمال کرتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل دہشت گرد حملوں کے پیش نظر پاکستان خاموش تماشائی نہیں بن سکتا اور اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔

جواد اجمل نے طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں۔ انہوں نے ایک مستحکم، پُرامن اور خوشحال افغانستان کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی کیا، جو اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکے۔