عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مسلسل دوسرے ماہ گرنے کا خدشہ
- اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,000.54 ڈالر فی اونس رہی
سونے کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ہوئی کیونکہ تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکا میں مہنگائی کے مضبوط اعدادوشمار نے رواں سال کے اواخر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ایک اور اضافے کے امکانات کو تقویت دی۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,000.54 ڈالر فی اونس رہی جب کہ دسمبر میں فراہمی کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت بھی 0.5 فیصد گر کر 4,010.10 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ سونے کی قیمت مسلسل دوسرے ماہ بھی کمی سے دوچار ہونے کی راہ پر گامزن رہی۔
سونے کی قیمت میں مسلسل گراوٹ 4,000 ڈالر فی اونس کی سطح پر تکنیکی سپورٹ کے برقرار رہنے کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا رہی ہے۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ ماضی میں قیمتوں میں کمی کے دوران خریداری نے سونے کی مزید گراوٹ کو محدود رکھا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا کم قیمت پر خریداری سونے کو مزید گراوٹ سے بچا سکے گی یا نہیں۔
امریکی مالی اعدادوشمار میں اس ہفتے اتنے مثبت اشارے سامنے آئے ہیں کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے دسمبر میں شرح سود میں ممکنہ اضافے کا امکان برقرار ہے۔ موجودہ سطح پر تیل کی قیمتوں کے ساتھ یہ صورتحال مہنگائی کے تناظر میں سونے کی کشش کم کررہی ہے۔
ستمبر کے دوران امریکا میں مہنگائی کی شرح میں تیزی آئی، کیونکہ صارفین نے پٹرول اور دیگر اشیا کے لیے زیادہ قیمتیں ادا کیں۔ اس سے ماہرین اقتصادیات کی دسمبر میں شرح سود بڑھنے کی توقعات کو تقویت ملی ہے۔
سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق ٹریڈرز دسمبر میں شرح سود بڑھائے جانے کے تقریباً 75 فیصد امکانات ظاہر کررہے ہیں۔
جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور مسلسل چوتھے ماہ اضافے کا امکان پیدا ہوگیا۔ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر حملے نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث تیل کی سپلائی کو لاحق خطرات کو نمایاں کردیا۔
دوسری جانب جمعہ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق جاپان کے دارالحکومت میں اکتوبر کے دوران بنیادی مہنگائی کی سالانہ شرح مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے خاصی زیادہ رہی جو بڑھتے ہوئے افراط زر کے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔
اسپاٹ چاندی کی قیمت 1.6 فیصد کمی کے بعد 51.53 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.9 فیصد گر کر 1,459.75 ڈالر فی اونس جبکہ پیلیڈیم 1.4 فیصد کمی کے بعد 992.37 ڈالر فی اونس پر آگیا۔
تینوں دھاتوں کی قیمتیں ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر بھی کمی کی جانب گامزن رہیں۔