عالمی بینک 670 ملین ڈالر کے مالیاتی پروگرام کو ایسی اصلاحات سے مشروط کر رہا ہے، جن میں ایکسپورٹ/امپورٹ آرڈر 2022 سے گندم اور چینی کو خارج کرنا، یوریا کی درآمد میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانا اور سرمایہ کاری و تجارت کی راہ میں حائل ضابطہ جاتی رکاوٹوں کا خاتمہ شامل ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں اس ربط کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اتحادی ممالک کے ساتھ امریکہ کے بڑے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے بلند محصولات عائد کرنے کی خاطر عالمگیریت کو ترک کررہی ہے جبکہ مخالف ممالک پر پابندیاں بھی عائد کی جارہی ہیں۔
یورپی یونین اب ماضی کی طرح ایک اقتصادی طاقت کے بجائے ایسے اتحاد کے طور پر سامنے آئی ہے جو روس کے ساتھ اپنی تاریخی دشمنی کو اخراجات کی ترجیحات کا تعین کرنے دے رہا ہے۔ خاص طور پر محدود مالی وسائل کو سماجی اور پیداواری شعبوں پر خرچ کرنے کے بجائے فوجی سازوسامان جمع کرنے پر صرف کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور اس کے آثار آج یورپ کے کئی دارالحکومتوں میں نظر آ رہے ہیں۔
دوسری جانب مغرب قرضوں کے بحران سے دوچار ہے جس نے عالمی قیادت برقرار رکھنے کی اس کی صلاحیت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ نے مؤثر طور پر پیٹرو ڈالر کے دور کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اس نظام کے تحت خلیجی ممالک امریکی ٹریژری بانڈز خریدتے تھے، جس سے امریکہ کو مالیاتی منڈیوں سے انتہائی کم شرح پر قرض حاصل کرنے میں مدد ملتی تھی۔
اس کے علاوہ یورپی یونین نے یوکرین کے لیے مزید 70 ارب یورو قرض لیا ہے۔ یہ فرض کیا جا رہا ہے کہ جنگ میں روس کی شکست کے بعد یہ رقم روس سے وصول کر لی جائے گی حالانکہ زمینی حقائق واضح طور پر اس مفروضے کی تردید کرتے ہیں۔
عالمی نظام میں واضح طور پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر یہ بات حیران کن ہے کہ عالمی بینک کی ٹیم، دیگر کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ مل کر، پاکستان جیسے مقروض ممالک پر ایسی شرائط مسلط کرنے پر بدستور اصرار کر رہی ہے جو موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے ان شرائط پر مذاکرات کرنے والے نمائندے انہیں چیلنج نہیں کررہے۔
عالمی بینک 2022 کے آرڈر سے گندم اور چینی کو خارج کرکے نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے پر بھی زور دے رہا ہے، حالانکہ یہ آرڈر حکومت کو ان دونوں اہم اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد کی نگرانی اور قلت یا اضافی رسد کی صورت میں مناسب تدارکی اقدامات کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ماضی اور حال کی حکومتیں اس بات کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہیں کہ آیا واقعی کسی شے کی قلت موجود ہے یا نہیں۔ اکثر ایسی صورتوں میں بھی برآمدی سبسڈی دے دی جاتی ہے جب سرے سے اضافی ذخائر موجود ہی نہیں ہوتے۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں ماضی میں ایسے فیصلے بھی کیے گئے جن کے تحت نجی شعبے کو برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن سے زیادہ قیمت ادا کرکے اسی شے کو دوبارہ درآمد کرنا پڑا۔
پاکستان میں آزاد منڈی کا نظام رائج نہیں ہے بلکہ یہاں مخصوص تجارتی تنظیموں کے قیام کے ذریعے اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ اور بالادستی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ تنظیمیں اپنے ارکان کے مالی مفادات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے اپنے نمایاں سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی کسانوں کے بجائے آڑھتیوں کے کنٹرول میں ہوتی ہیں، جو چھوٹی سطح پر اجارہ داروں کی طرح کام کرتے ہیں۔
عالمی بینک کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کا بھی اعتراف کرنا چاہیے تھا، جسے 2023 کے وسط میں اعلیٰ ترین سطح پر اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے، تمام انتظامی رکاوٹیں دور کرنے اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات کے ازالے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اب تک اس کی کامیابی محدود رہی ہے، تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار بحال ہونے کے ساتھ ایس آئی ایف سی کا کردار مزید اہم ہو جائے گا۔
لہٰذا، کثیرالجہتی مالی اداروں کو چاہیے کہ وہ ان اصولوں پر خود بھی عمل کریں جن کی پاسداری کا مشورہ وہ اپنے معاونت کے طلب گار رکن ممالک کو دیتے ہیں۔ انہیں اپنے اداروں میں طرزِ حکمرانی کی اصلاحات متعارف کرانی چاہییں، خواہ اس مقصد کے لیے موجودہ عملے کو بدلتے ہوئے عالمی نظام سے ہم آہنگ ہونے کی تربیت دی جائے یا انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی پیشکش کرکے ایسے افراد بھرتی کیے جائیں جو عالمی تبدیلیوں کی نوعیت اور سمت سے پوری طرح آگاہ ہوں۔
مزید برآں، پاکستان جیسے امداد کے طلب گار ممالک کے نقطۂ نظر سے ضروری ہے کہ مذاکرات کے لیے ایسے نمائندوں کا انتخاب کیا جائے جو بدلتے عالمی حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوں اور مستقبل کی سمت کا درست ادراک رکھتے ہوں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026