✕
مارکٹس

مزید معلومات سامنے آنے کے انتظار میں امریکی فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود برقرار رکھی

  • امریکی مرکزی بینک نے کہا ہے کہ وہ شرحِ سود کو موجودہ 3.75 سے 4.00 فیصد کی حد میں برقرار رکھے گا
شائع اپ ڈیٹ

امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کے روز توقعات کے مطابق شرحِ سود برقرار رکھی ہے اور قرض لینے کی لاگت میں کسی بھی تبدیلی کو آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران افراطِ زر کی سمت کا اندازہ لگانے کے لیے مزید اعداد و شمار کا انتظار کیا جائے گا۔

امریکی مرکزی بینک نے 10 کے مقابلے میں 2 ووٹوں سے شرحِ سود کو موجودہ 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اس نے تسلیم کیا ہے کہ افراطِ زر اب بھی بلند سطح پر ہے، معیشت کے بارے میں اپنی رائے کو بہتر بنایا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ افراطِ زر کی صورتِ حال کے مطابق شرحِ سود میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

شرحِ سود کے تعین کے ذمہ دار فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی نے اپنے تازہ پالیسی بیان میں کہا ہے کہ مزید معلومات سامنے آنے سے کمیٹی کو ایسی پالیسی اختیار کرنے میں مدد ملے گی جس کے ذریعے افراطِ زر کو بروقت اس کے 2 فیصد کے ہدف تک واپس لایا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیٹی قیمتوں کا استحکام یقینی بنائے گی۔


امریکی فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک، جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ مرکزی بینک سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، نے شرحِ سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافے کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے فیصلے سے اختلاف کیا۔ کلیولینڈ فیڈ کی صدر بیتھ ہامک نے بھی اس فیصلے سے اختلاف کیا اور شرحِ سود میں اضافے کی حمایت کی۔ وہ مسلسل سخت مالیاتی پالیسی کی حامی رہی ہیں اور جولائی میں بھی اسی بنیاد پر اختلافی رائے دے چکی ہیں۔

فیڈ کا تازہ پالیسی بیان 15 اور 16 ستمبر کو ہونے والے اجلاس کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی ظاہر کرتا ہے۔ اس میں مستقبل کی پالیسی سے متعلق ایسے اشارے بھی ملتے ہیں جن سے گریز کی خواہش کا اظہار فیڈ کے چیئرمین کیون وارش پہلے کر چکے ہیں۔

مرکزی بینک نے معیشت کے بارے میں اپنا جائزہ ستمبر کے اجلاس میں استعمال کیے گئے لفظ ’’مستحکم‘‘ سے بہتر کرتے ہوئے اسے ’’مضبوط‘‘ قرار دیا ہے۔ سرمایہ کاری کو بدستور مستحکم قرار دیا گیا ہے، جبکہ روزگار میں اضافے کی رفتار افرادی قوت میں اضافے کے برابر رہی ہے۔

افراطِ زر کے پھیلاؤ کے خدشات

رواں ہفتے ہونے والے اجلاس کے نتائج کی بڑے پیمانے پر توقع کی جا رہی تھی، کیونکہ فیڈ کے اعلیٰ عہدیداروں نے اشارہ دیا تھا کہ گزشتہ ماہ شرحِ سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافے کی منظوری کے بعد فوری طور پر مزید اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس دوران جاری ہونے والے افراطِ زر کے اعداد و شمار توقعات سے زیادہ رہے اور معیشت کے مختلف شعبوں میں قیمتوں کے دباؤ کے پھیلاؤ پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

توانائی کی قیمتیں بدستور بلند ہیں، جن میں ڈیزل ایندھن بھی شامل ہے جو مال برداری، زراعت اور دیگر صنعتوں کے لیے اہم خام مال کی حیثیت رکھتا ہے۔ افراطِ زر اور عمومی طور پر اخراجاتِ زندگی کا مسئلہ ان سیاسی مقابلوں کا مرکزی موضوع رہا ہے جن کے نتائج 3 نومبر کو طے کریں گے کہ آیا ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے یا ڈیموکریٹس قیادت کے عہدوں پر فائز ہو کر نگرانی کے زیادہ اختیارات حاصل کر لیتے ہیں، جن میں فیڈ کی نگرانی بھی شامل ہے۔

کیون وارش پالیسی فیصلے اور معیشت کے مستقبل کے منظرنامے کی وضاحت کے لیے مشرقی امریکی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے (گرینچ معیاری وقت کے مطابق شام 6 بج کر 30 منٹ) پریس کانفرنس کریں گے۔

سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ افراطِ زر میں کمی لانے کے لیے شرحِ سود میں مزید اضافے درکار ہوں گے، جن کا آغاز دسمبر سے ہو سکتا ہے اور یہ سلسلہ 2027ء تک جاری رہ سکتا ہے۔ افراطِ زر اس وقت فیڈ کے ہدف سے تقریباً ایک فیصد پوائنٹ زیادہ ہے اور حالیہ مہینوں میں اس میں کمی کے آثار محدود رہے ہیں۔

امریکی مرکزی بینک ساڑھے پانچ برس سے افراطِ زر کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس صورتِ حال نے بعض عہدیداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ کاروباری ادارے اور گھرانے قیمتوں میں تیز رفتار اضافے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں اور مستقبل کے لیے بھی اسی رجحان کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کر سکتے ہیں، جس سے افراطِ زر پر قابو پانا مزید مشکل ہو جائے گا۔