ایران جنگ پر امریکی اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے، پینٹاگون
- جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ریپبلکن پارٹی کو 3 نومبر کے انتخابات سے قبل غیر مقبول جنگ کے سیاسی اثرات کا سامنا ہے
ایران کے خلاف جنگ پر امریکی فوج کے اخراجات اب تک 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں، جو جولائی میں امریکی محکمہ دفاع کے تخمینے سے 25 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ رائٹرز کو حاصل ہونے والے پینٹاگون کے اعداد و شمار میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے۔
پینٹاگون نے اخراجات کے تازہ تخمینے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ یہ تخمینہ تاحال عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا۔
جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ریپبلکن پارٹی کو 3 نومبر کے انتخابات سے قبل غیر مقبول جنگ کے سیاسی اثرات کا سامنا ہے۔ ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو بھی متاثر کیا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق جنگی کارروائیوں کے اخراجات کے علاوہ استعمال شدہ گولہ بارود کی جگہ نئے ہتھیاروں کی خریداری پر 29 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ فوجی سازوسامان اور تباہ ہونے والے طیاروں، ڈرونز سمیت دیگر جنگی وسائل کی جگہ نئے آلات حاصل کرنے کے لیے مزید 6 ارب ڈالر سے زیادہ درکار ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی اور ابتدا میں اس کے مختصر عرصے تک جاری رہنے کی توقع ظاہر کی تھی۔
جولائی میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جنگ کے اخراجات 37.5 ارب ڈالر بتائے تھے۔ تاہم تازہ تخمینے میں امریکی فوجی اڈوں کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے اخراجات واضح طور پر شامل نہیں کیے گئے۔