✕
دنیا

نیتن یاہو کی جنگی پالیسیوں پر فیصلہ، اسرائیلی ووٹرز کا نصف صدی میں تیز ترین ٹرن آؤٹ

  • اسرائیلی مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق پہلے پانچ گھنٹوں میں 31.5 فیصد اہل ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا
شائع اپ ڈیٹ

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جنگی پالیسیوں پر فیصلہ دینے کے لیے منگل کو ووٹرز تقریباً نصف صدی کے دوران تیز ترین رفتار سے پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچے۔ ووٹرز نے اس انتخاب کو ملکی تاریخ کا اہم ترین الیکشن قرار دیا۔

7 اکتوبر 2023 کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات کے موقع پر پولنگ اسٹیشنوں کے باہر طویل قطاریں لگ گئیں۔

نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کی پالیسیوں نے ملک کے اندر اختلافات کو گہرا کیا ہے اور عالمی سطح پر اسرائیل کی تنہائی میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم نیتن یاہو نے اپنے ریکارڈ کا دفاع کرتے ہوئے خود کو اسرائیل کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا واحد رہنما قرار دیا ہے۔

اسرائیل میں 19 سال تک اقتدار میں رہنے والے نیتن یاہو ملک کے طویل ترین عرصے تک وزیراعظم رہنے والے رہنما ہیں۔ وہ سیاسی بقا کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی قوم پرستانہ سیاست کی جڑیں مزید گہری ہوچکی ہیں۔ اسرائیل کے منقسم سیاسی نظام کے باعث مختلف مخالف جماعتوں کے لیے دائیں بازو، انتہائی دائیں بازو اور سخت گیر مذہبی جماعتوں پر مشتمل ان کے اتحاد کو اقتدار سے ہٹانا مشکل ہے۔

نیتن یاہو کے اہم حریف گادی آئزن کوٹ سابق آرمی چیف اور سخت گیر سکیورٹی مؤقف رکھنے والے رہنما ہیں۔ وہ دائیں اور مرکز کی جماعتوں کے علاوہ بتدریج غیر مؤثر ہوتی بائیں بازو کی باقی ماندہ قوتوں کی حمایت سے نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں دونوں کے درمیان سخت مقابلہ دکھائی دے رہا ہے اور کسی بھی رہنما کے لیے اقتدار حاصل کرنے کا راستہ آسان نظر نہیں آتا۔

نیتن یاہو کی حامیوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل

پولنگ شروع ہونے کے پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب میں نیتن یاہو نے انہیں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیں بازو اور عرب پس منظر رکھنے والے اسرائیلیوں میں ووٹنگ کی شرح بلند ہے۔ عرب نژاد شہری ملک کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا ہمیں بھی ووٹنگ کی شرح بلند رکھنی ہے۔ آپ سب کو بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کرنا ہوگا۔ یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔

ووٹر کے نزدیک یہ ان کی زندگی کا اہم ترین انتخاب

پولنگ اسٹیشن صبح 7 بجے (گرینچ مین ٹائم کے مطابق صبح 5 بجے) کھلے، جبکہ پولنگ رات 10 بجے (جی ایم ٹی کے مطابق رات 8 بجے) ختم ہونا تھی۔

اسرائیلی مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق پہلے پانچ گھنٹوں میں 31.5 فیصد اہل ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرچکے تھے۔ 1977 کے تاریخی انتخابات کے بعد یہ ووٹنگ کی تیز ترین رفتار تھی۔ ان انتخابات کو ’’سیاسی انقلاب‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ ان کے نتیجے میں اسرائیل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دائیں بازو کی جماعتیں اقتدار میں آئی تھیں۔

تل ابیب کے قریب رامات گان میں رہنے والی 81 سالہ روتھ ایپسٹین نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ انتخابات ان کی زندگی کے تمام انتخابات میں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ طویل عرصے سے بائیں بازو کی حامی ایپسٹین نے اپوزیشن کی ڈیموکریٹس جماعت کو ووٹ دیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے واقعی خوف ہے کہ یہاں کیا ہونے والا ہے۔

نیتن یاہو نے اپنی انتخابی مہم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کو نمایاں کیا۔ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں ان کے اتحادی ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ انہیں ’’کام مکمل کرنا چاہیے‘‘۔

اگر نیتن یاہو اور آئزن کوٹ میں سے کوئی بھی 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے درکار اتحاد تشکیل نہ دے سکا تو نئے انتخابات تک نیتن یاہو عبوری وزیراعظم رہ سکتے ہیں۔

2009 کے بعد ان کے مخالفین صرف ایک مرتبہ انہیں وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے لیے دو سال کے دوران چار غیر فیصلہ کن انتخابات ہوئے، تاہم 18 ماہ بعد نیتن یاہو دوبارہ اقتدار میں آگئے۔

آئزن کوٹ کو ’’نئی روح‘‘ کی امید

نیتن یاہو کے بہت سے مخالفین کے لیے یہ انتخاب 7 اکتوبر کے سکیورٹی انتظامات کی ناکامیوں پر احتساب کا معاملہ ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے قومی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس کی نیتن یاہو کی حکومت مخالفت کرتی رہی ہے۔

جنوبی اسرائیل میں واقع کِبّوتز نیر عوز کے دورے کے دوران آئزن کوٹ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دن کے اختتام تک تبدیلی اور اسرائیلی ریاست کے لیے ایک نئی روح سامنے آئے گی، جو گزشتہ تین برسوں اور اس ہولناک دن کے واقعات کی تلافی کا ذریعہ بنے گی۔ نیر عوز ان مقامات میں شامل تھا جنہیں 7 اکتوبر کے حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

آئزن کوٹ کے مطابق اسرائیل کا جوابی حملہ اور جنگ ناکامی ہے، کیونکہ حماس اب بھی اقتدار میں ہے۔ صحت حکام کے مطابق اس جنگ میں 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ آئزن کوٹ نے حکومت بنانے کے 18 ماہ کے اندر غزہ میں حماس کی فوجی اور انتظامی طاقت ختم کرنے یا اسے تباہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

نیتن یاہو کے اتحاد میں شامل انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے رہنما اتمار بن گویر نے منگل کی صبح مقبوضہ مغربی کنارے کی بستی کریات اربع میں ووٹ ڈالا۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ نیتن یاہو دوبارہ وزیراعظم بنیں گے اور ان کی جماعت نئی حکومت میں دائیں بازو کی بنیادی قوت ہوگی۔

عرب ووٹرز کی شرکت فیصلہ کن ہوسکتی ہے

فلسطینی پس منظر رکھنے والے مگر اسرائیلی شہریت کے حامل عرب اقلیتی ووٹرز بھی ’’غیر معمولی‘‘ تعداد میں ووٹ ڈال رہے تھے۔ فلسطینی امیدوار احمد طیبی نے یہ بات کہی۔

نیتن یاہو ووٹنگ سے قبل بارہا اپنے حامیوں کو عرب اسرائیلیوں کی ممکنہ زیادہ شرکت سے خبردار کرتے رہے۔ انہوں نے ’’دائیں بازو یا فلسطین‘‘ کے نعرے کے تحت اپنے حامیوں کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔

آئزن کوٹ مشترکہ اقدار نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کرچکے ہیں لیکن بعض ممکنہ سیاسی منظرناموں میں عرب جماعتیں اقلیتی حکومت کی حمایت کرسکتی ہیں، تاکہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹایا جاسکے۔

7 اکتوبر کے حملوں کے بعد آئزن کوٹ نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں شامل ہوئے تھے، تاہم ان کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے آٹھ ماہ بعد مستعفی ہوگئے۔

7 اکتوبر کے بعد شروع کیے گئے فوجی حملوں میں اسرائیل نے غزہ کے بیشتر حصے کو تباہ کردیا۔ اب ایک سال قبل امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے تحت اسرائیل غزہ کے تقریباً دو تہائی علاقے پر قابض ہے۔ حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کے انخلا سے متعلق مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کو بھی شدید نقصان پہنچایا، جہاں اب وہ ایک بڑے علاقے پر قابض ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے ساتھ حملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے نتیجے میں 2025 میں 12 روزہ فضائی مہم اور رواں سال امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ شروع ہوئی۔

اسرائیل کی تقریباً تمام یہودی جماعتوں کے رہنماؤں کی طرح آئزن کوٹ بھی دو ریاستی حل کے مخالف ہیں، جو فلسطینیوں کے ساتھ کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے امن مذاکرات کی بنیاد رہا ہے۔

مگر انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کے تشدد پر تنقید کی ہے۔ 2023 کے بعد اس تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مغربی ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ آئزن کوٹ نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اتحادیوں کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔