حکومت کی توجہ برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی اور نجی شعبے کو سہولتوں کی فراہمی پر مرکوز ہے، وزیر خزانہ
- ملک کی معیشت مستحکم بنانے کے لیے ساختی اصلاحات جاری ہیں، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ساختی اصلاحات جاری ہیں۔ حکومت کی توجہ برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی، ٹیکس نظام میں بہتری، توانائی کی لاگت میں کمی اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات 5.5 ارب ڈالر جبکہ ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ سے زیادہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
وزیر خزانہ نے ہفتے کے روز لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ماضی کے معاشی اتار چڑھاؤ کے چکر سے نکل کر ترقی کی ایسی راہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ معاشی ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ درآمدات پر ضرورت سے زیادہ انحصار نے پاکستان کو بارہا توازنِ ادائیگی کے بحرانوں سے دوچار کیا، جن سے نکل کر معیشت کو مستحکم کرنے میں چار سے پانچ سال لگ جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے ملک کو برآمدات بڑھانے، پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور معیشت کی بنیادیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ سال اپریل سے اب تک پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں سال اپریل میں نجی پلیسمنٹ کی، جبکہ پانڈا بانڈز کے اجرا کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کی کوششیں آگے بڑھائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے یورو بانڈز کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والے آرڈرز پیش کردہ مالیت سے دو گنا تھے۔ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے بھی دلچسپی ظاہر کی۔
وزیر خزانہ کے مطابق، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی بلند سطح پر ہیں اور تین ماہ سے زیادہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ اس کے برعکس ایک وقت ایسا بھی تھا جب ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے مساوی رہ گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سرمایہ کار اب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے ہٹ کر بھی پاکستان کی معاشی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آئندہ سال اکتوبر میں ختم ہونا ہے، اس لیے معاشی استحکام برقرار رکھنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانے اور پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنانے کے لیے اصلاحات پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام بہتر بنانے، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ برآمدات بڑھانے کے لیے سپر ٹیکس ختم کرنے اور ٹیکس کی شرحوں میں کمی سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ بجٹ میں برآمد کنندگان کے لیے 4.5 فیصد شرح سود پر مالی سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے محصولات اور توانائی کی لاگت میں کمی ضروری ہے۔ صنعتوں کو تقریباً 23 روپے فی یونٹ کے حساب سے اضافی بجلی فراہم کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق، پاکستان کو ایسی معاشی ترقی درکار ہے جو سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافے کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے۔ صرف 7 سے 8 فیصد شرح نمو حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچنا اور ان کا معیارِ زندگی بہتر ہونا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نجی شعبے کی حوصلہ افزائی، سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہتی ہے۔
توانائی کی صورت حال
توانائی کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے باوجود پاکستان نے توانائی کی قلت سے بچاؤ کیا ہے اور موٹر سائیکلوں و گاڑیوں کے مالکان کو پیٹرول پمپس پر طویل قطاروں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل اور توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کی صورت حال تسلی بخش ہے اور نومبر تک ضروریات پوری کرنے کے مناسب انتظامات موجود ہیں۔ موسمِ سرما کے لیے بھی منصوبہ بندی جاری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو مشکلات سے بچانے کے لیے گیس اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بروقت اقدامات کرنا ضروری ہے۔
عوام کو ریلیف کی فراہمی
عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے عمومی سبسڈی کے بجائے ہدفی سبسڈی کا طریقہ اختیار کیا ہے تاکہ امداد ان افراد تک پہنچے جنہیں واقعی اس کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی سے کم انجن کی گنجائش والی گاڑیوں کے لیے ہدفی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ اس اسکیم سے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ منفرد افراد مستفید ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد تقریباً چار سے پانچ کروڑ رہی۔
انہوں نے کہا کہ ہدفی امداد کے ذریعے محدود سرکاری وسائل معاشرے کے زیادہ مستحق طبقات تک پہنچائے جاسکتے ہیں۔
آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی
وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو پاکستان کے بڑے چیلنجز قرار دیا۔ ان کے مطابق، ملک میں آبادی بڑھنے کی سالانہ شرح تقریباً 2.55 فیصد ہے اور موجودہ رجحان برقرار رہا تو آبادی 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبادی میں اضافے سے تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، جس کے پیش نظر طویل مدتی منصوبہ بندی اور ساختی اقدامات ضروری ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران آبادی میں اضافے کی شرح ایک فیصد سے کم کرنے میں پیش رفت کی ہے۔ پاکستان کو بھی خواتین کی تعلیم کے فروغ، افرادی قوت میں ان کی شرکت بڑھانے اور عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح تقریباً 22.7 فیصد ہے۔ اس شرح میں اضافے سے ملک کی پیداواری صلاحیت اور معاشی ترقی کو تقویت مل سکتی ہے۔
پائیدار معاشی ترقی پر زور
وزیر خزانہ نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے باعث عالمی معیشت کو غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے، جس سے ضروری اشیا کی قیمتیں اور توانائی کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔
ان حالات میں پاکستان کو معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے اور روزگار پیدا کرنے والی ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے معاشی اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنے، برآمدات بڑھانے، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔