✕
اداریہ

پاکستان کے قرضوں کی مجموعی صورتِ حال

شائع اپ ڈیٹ

اقتصادی امور ڈویژن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران 5 ارب 44 کروڑ 50 لاکھ ڈالر موصول ہوئے جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ رقم ایک ارب 81 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھی۔ یہ اعداد و شمار حکومت کے ان ارکان، بشمول وزیراعظم کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں جو بارہا یہ عزم ظاہر کرچکے ہیں کہ اس وقت جاری 7 ارب ڈالر کا توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف)، جن کی مدت 2027 میں ختم ہونا طے ہے پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا آخری پروگرام ثابت ہوں گے۔

تاہم اس مجموعی رقم میں سے کثیرالجہتی قرضوں کی مالیت 95 کروڑ 22 لاکھ ڈالر تھی جو نسبتاً کم شرحِ سود پر دستیاب ہوتے ہیں جبکہ دوطرفہ قرضوں کی مالیت 5 کروڑ 81 لاکھ ڈالر رہی۔

باقی 5 ارب 14 کروڑ 40 لاکھ ڈالر یورو بانڈز کے اجرا کے ذریعے حاصل کیے گئے۔ ان میں سے 1.75 ارب ڈالر کے بانڈز 7.5 فیصد شرحِ سود پر ساڑھے پانچ سال کی مدتِ ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے جبکہ 1.25 ارب ڈالر کے بانڈز 7.9 فیصد شرحِ سود پر 10 سال کے لیے جاری ہوئے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کا تخمینہ تقریباً 3 فیصد لگایا گیا تھا۔ اس شرح نے آزاد ماہرینِ معیشت میں کچھ تشویش پیدا کی ہے کیونکہ جغرافیائی و سیاسی عوامل کے باعث پاکستانی روپے کو جن کرنسیوں کی ٹوکری کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، ان میں سے بیشتر کی قدر میں نمایاں کمی کے باوجود روپیہ مستحکم رہا۔

اس سے قبل پاکستانی روپے کی قدر میں سالانہ اوسط کمی 4 سے 5 فیصد کے درمیان رہی ہے۔ تاہم، برآمدات میں نمایاں اضافے اور تجارتی توازن میں بہتری کے بغیر ان بانڈز کی مدت پوری ہونے پر ان کی ادائیگی ایک سنگین چیلنج بن جائے گی۔

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران تجارتی خسارہ ایک بار پھر بڑھ رہا ہے جو پاکستانی معیشت کو درپیش روایتی تیزی اور مندی کے چکر کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک کمرشل بینکوں جن میں دبئی میں قائم یو بی ایل بھی شامل ہے سے بلند تجارتی شرحِ سود پر مزید 30 کروڑ ڈالر قرض لیا گیا۔

مزید برآں نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (این پی سیز) کے ذریعے 94 کروڑ 27 لاکھ ڈالر حاصل کیے گئے جن میں 30 کروڑ ڈالر روایتی سرٹیفکیٹس اور 64 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اسلامی سرٹیفکیٹس کے ذریعے حاصل ہوئے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان قرضوں پر شرحِ سود کثیرالجہتی اور دوطرفہ قرض دہندگان سے حاصل ہونے والے قرضوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہوگی۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 25ویں قرض پروگرام میں شامل ہے جبکہ ہر قرض پروگرام کی اوسط مدت تقریباً تین سال رہی ہے۔ 2019 سے اب تک حکام کو فنڈ کے بورڈ سے قرض کی منظوری سے قبل سخت شرائط تسلیم کرنا پڑی ہیں۔ اس کے ساتھ تین دوست ممالک کی جانب سے اسٹیٹ بینک میں جمع کرائے گئے تقریباً 10 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی باقاعدہ تجدید کا معاملہ بھی مسلسل درپیش رہا ہے۔

فنڈ کی 10 اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’’اصلاحات کے لیے بار بار کی جانے والی کوششیں، بشمول فنڈ کے تعاون سے چلنے والے پروگراموں کے تحت اقدامات، عموماً قلیل مدتی ثابت ہوئیں اور انہیں ترک کر دیا گیا یا ان پر عمل درآمد واپس لے لیا گیا۔ یہی مشاہدہ ہر آئندہ قسط کے اجرا سے قبل انتہائی سخت پیشگی شرائط عائد کیے جانے کی وضاحت کرتا ہے جن کے منفی اثرات عام شہریوں کے معیارِ زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔

تاہم ملکی قرضوں اور بیرونی قرضوں سمیت مجموعی قرضوں کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے دو عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ پہلا یہ کہ حکومت نے قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنے کے لیے فعال اقدامات کیے ہیں۔ قرض لینے والے ممالک میں یہ ایک عام طریقہ ہے جس کا مقصد بجٹ پر قرضوں کی فوری ادائیگی کا بوجھ کم کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، اس تبدیلی سے اصل زر کی ادائیگی کا سال تو آگے بڑھ جاتا ہے، لیکن قرضوں کی مدت پوری ہونے تک قابلِ ادائیگی مجموعی سود میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس تناظر میں پالیسی ریٹ کی بلند شرح، جو 11.5 فیصد ہے اور علاقائی اوسط سے زیادہ ہے، قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات بڑھا رہی ہے۔ نتیجتاً، رواں مالی سال کے بجٹ میں قرضوں پر سود اور اصل زر کی ادائیگی کے لیے مختص رقم مجموعی اخراجات کا 43 فیصد اور جاری اخراجات کا 46 فیصد ہے۔

موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ترقی یافتہ مغربی معیشتوں، بالخصوص امریکا، کو درپیش سنگین مالی مسائل کا جائزہ لے۔ عالمی طاقت ہونے کے ناطے امریکا نے کم لاگت پر قرض حاصل کرنے کے لیے ڈالر کی حیثیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ ڈالر دنیا کی بنیادی ذخیرہ کرنسی ہے اور عالمی سطح پر سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر میں اس کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے۔

تاہم ڈالر کی اس بالادستی کو اب چیلنجز کا سامنا ہے جو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ مزید برآں رواں سال مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے ملکی اور بیرونی ذرائع سے قرض لینے کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث قرض اور ایکویٹی کا تناسب نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ یہ رجحان قرضوں پر انحصار ختم کرنے کے خوش آئند مقصد کے حصول کے لیے اچھا شگون نہیں۔

بہتر حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ حکومت بڑے مالیاتی خسارے کے بجٹ سے گریز کرے۔ رواں سال یہ خسارہ 7 کھرب روپے لگایا گیا ہے جسے قرض لے کر پورا کرنا ہوگا۔ اس کے بجائے ماضی کے قرضوں کی ادائیگی پر توجہ دی جائے جس میں سود کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مقررہ وقت پر اصل زر کی واپسی بھی شامل ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026