وزیراعظم کی پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کی ہدایت
- دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے طے شدہ ہدف کے حصول کے لیے بہتر فضائی رابطہ ضروری ہے، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست فضائی رابطے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی تیز کرنے کی ہدایت کردی، جبکہ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک کی قومی فضائی کمپنی جلد مالے اور کراچی کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
پاکستان مالدیپ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے وزارتِ ہوا بازی کو براہ راست پروازوں کے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری حکام اور کاروباری نمائندوں پر مشتمل پاکستانی وفد ایک ہفتے کے اندر مالے کا دورہ کرے گا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جاسکیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے طے شدہ ہدف کے حصول کے لیے بہتر فضائی رابطہ ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے مالے سے اسلام آباد یا کراچی تک براہ راست پروازوں اور کراچی یا گوادر سے مالدیپ کے دارالحکومت تک باقاعدہ بحری جہاز رانی کے انتظامات پر زور دیا گیا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی مالدیپ کے وفد کو پاکستان مدعو کرے گی، جبکہ فزیبلٹی اسٹڈی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سمیت دیگر مقامی فضائی کمپنیوں کو بھی زیر غور لایا جائے گا۔
صدر معیزو نے کہا کہ بہتر رابطوں سے سیاحت، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے زراعت، صحت، ادویات، تعمیرات، قابلِ تجدید توانائی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی زرعی پیداوار مالدیپ کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ پاکستانی ادویہ ساز کمپنیوں اور طبی اداروں کے لیے بھی شراکت داری کے مواقع موجود ہیں۔
صدر مالدیپ نے کہا کہ ان کا ملک 2028 تک بجلی کی ضروریات کا 33 فیصد قابلِ تجدید توانائی سے پورا کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کیا جاسکتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کا حجم 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کو عملی شکل دینے پر زور دیا۔ صدر معیزو نے پاکستانی کاروباری اداروں کو مالدیپ میں طویل مدتی سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026