✕
دنیا

سعودی آرامکو کی الظہران میں عملے کو انخلا کی ہدایت، حوثیوں کے ساتھ جھڑپیں جاری

  • حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں شدت، آرامکو کا عملے کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا فیصلہ، تیل تنصیبات اور ہوائی اڈے متاثر، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر اثرات
شائع اپ ڈیٹ

سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے خلیج فارس کے ساحل پر واقع اپنے ہیڈکوارٹرز الظہران میں عملے کو عمارت خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ معاملے سے واقف چھ افراد نے جمعرات کے روز رائٹرز کو بتایا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ رہی ہے۔

حوثیوں کی جانب سے باب المندب کی طرف پیش قدمی کے بعد سے اس گروپ اور یمن کی حکومت کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ باب المندب بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی تجارت کے لیے جہاز گزرتے ہیں۔

عملے کو عمارت خالی کرکے دور سے کام کرنے کی ہدایت مملکت پر حوثیوں کے حملوں کی نئی لہر کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں آرامکو اور سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کمپنی نے اس بارے میں تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا کہ آیا یہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار عملے کے انخلا کا حکم ہے۔

عملے کو عمارت خالی کرنے کی ہدایت کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔

ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق، آرامکو سے متعلق خبر کے بعد جمعرات کے روز سعودی عرب کا اہم اسٹاک انڈیکس 2.5 فیصد گر گیا۔ مشرق وسطیٰ میں تنازع بڑھنے اور خطے سے خام تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات کے باعث جمعرات کو تیل کی قیمتیں مئی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

حوثیوں کا ینبع میں آرامکو کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی تقریر میں کہا ہے کہ گروپ نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں آرامکو کی تنصیبات اور دارالحکومت ریاض میں سعودی وزارت دفاع پر حملے کیے ہیں۔ سعودی حکام نے ان حملوں کی تصدیق نہیں کی۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے جمعرات کو بتایا کہ اس نے ریاض اور اسلام کے مقدس شہر مدینہ کے اوپر ڈرونز کو روک لیا ہے۔ مدینہ ینبع کے قریب واقع ہے۔

حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی ختم کر دی ہے۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں سرحد پار حملوں میں بڑی حد تک کمی آ گئی تھی۔ نئی لڑائی نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ میں ایک اور محاذ کھول دیا ہے۔

حوثیوں نے رواں ماہ کے اوائل میں آرامکو کے ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا تھا، جس سے عمارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور آگ کئی منزلوں تک پھیل گئی تھی۔

سعودی عرب نے حوثیوں کے حملوں کے جواب میں میزائل لانچ کرنے کے مقامات پر حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے اور مملکت کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائل بھی مار گرائے ہیں۔

یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ سعودی حملوں میں جولائی کے وسط سے اب تک 562 افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ جولائی کے وسط میں حوثیوں نے مملکت کی بحری ناکہ بندی کی تھی، جس کے بعد سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے خبردار کیا تھا کہ وہ اس کا ’’سختی سے‘‘ جواب دے گا۔

علاوہ ازیں، یحییٰ سریع نے جمعرات کے روز اس سے قبل کہا تھا کہ حوثی جبل ذوقر جزیرے کے قریب حملے کا نشانہ بننے والی ایک کشتی میں سوار 14 بھارتی شہریوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ جزیرہ آبنائے کے قریب واقع ان علاقوں میں شامل ہے جن پر گروپ نے ستمبر میں پیش قدمی کے دوران قبضہ کیا تھا۔

یحییٰ سریع نے اس حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا ہے۔ سعودی حکام نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

حوثیوں کے ہوائی اڈوں پر حملے

بدھ کی شام سعودی عرب کے مشرقی تیل مرکز دمام میں واقع شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک سعودی شہری اور ایک بھارتی شہری شامل تھے۔ دمام، الظهران کے قریب واقع ہے۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے جمعرات کو بتایا کہ ہوائی اڈے پر آپریشنز بحال ہو گئے ہیں اور فضائی آمدورفت معمول پر آ گئی ہے۔

حوثیوں نے رواں ماہ فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کی تھی۔ گروپ اس سے قبل بھی سعودی ہوائی اڈوں کو بار بار نشانہ بنا چکا ہے، جن میں ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور جنوبی شہر ابہا کا ہوائی اڈہ شامل ہیں۔

جمعرات کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 4 منٹ تک برینٹ خام تیل کے سودے 3.06 ڈالر، یعنی 2.81 فیصد اضافے کے بعد 111.88 ڈالر فی بیرل پر ہوئے۔ کاروباری سیشن کے دوران قیمت 112.55 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 18 مئی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔