✕
مارکٹس

او جی ڈی سی ایل نے خیرپور کے تحقیقی کنویں سے تیل و گیس کی پیداوار شروع کردی

  • او جی ڈی سی کے مطابق کنویں سے بہاؤ مستحکم ہونے پر پیداوار بتدریج بڑھائی جائے گی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی بڑی تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں میں شامل آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع خیرپور میں بٹرسیم ایسٹ-1 تحقیقی کنویں سے گیس اور کنڈینسیٹ کی پیداوار شروع کردی۔

کمپنی نے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جاری کردہ نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔او جی ڈی سی ایل کے مطابق کنویں سے لوئر گرو فارمیشن کی بیسل سینڈز سے یومیہ 70 لاکھ مکعب فٹ گیس اور 200 بیرل کنڈینسیٹ پیدا ہو رہا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ کنویں سے گیس کے بہاؤ میں استحکام آنے کے ساتھ پیداوار بتدریج بڑھائی جائے گی۔او جی ڈی سی ایل نے اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے تقریباً 28 کلومیٹر طویل اور 8 انچ قطر کی پائپ لائن بچھائی ہے، جس کے ذریعے کنویں کو پراسیسنگ کے لیے سنجھورو پلانٹ سے منسلک کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق پراسیسنگ کے بعد گیس سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے نیٹ ورک میں فراہم کی جارہی ہے، جس سے مقامی گیس کی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔

او جی ڈی سی ایل بٹرسیم ایکسپلوریشن لائسنس کی آپریٹر ہے اور اس میں کمپنی کا حصہ 77.5 فیصد ہے، جبکہ مشترکہ منصوبے میں گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا حصہ 22.5 فیصد ہے۔

کمپنی کے مطابق بٹرسیم ایسٹ-1 سے پیداوار کا آغاز اس عزم کا اظہار ہے کہ او جی ڈی سی ایل دریافت شدہ ذخائر کو پیداوار میں تبدیل کرنے، ملک میں تیل و گیس کی فراہمی بڑھانے اور پاکستان کے توانائی تحفظ میں کردار ادا کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

او جی ڈی سی ایل 23 اکتوبر 1997 کو کمپنیز آرڈیننس 1984 کے تحت قائم ہوئی۔ کمپنی کے قیام کا مقصد تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش اور ترقی، پیداوار و فروخت اور اس سے متعلق دیگر سرگرمیاں انجام دینا تھا۔ یہ سرگرمیاں اس سے قبل آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن انجام دیتی تھی، جو 1961 میں قائم ہوئی تھی۔