✕
کاروبار اور معیشت

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے بعد مسابقتی نظام متعارف کرانے کی تجویز

  • مجوزہ ماڈل کے تحت بجلی کے شعبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے گا
شائع اپ ڈیٹ

نجکاری کمیشن نے پاکستان کے بجلی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی تجویز پیش کرتے ہوئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نیٹ ورک کو بجلی کی مسابقتی فراہمی کے کاروبار سے الگ کرنے، پرانے بجلی خریداری معاہدوں اور کپیسٹی ادائیگیوں کی ذمہ داریاں نجی شعبے کے سپلائرز کو منتقل کرنے اور کارکردگی پر مبنی نظام متعارف کرانے کی سفارش کی ہے۔

کمیشن کی پالیسی دستاویز ’’بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے بعد کا نظام‘‘ کے مطابق مجوزہ ماڈل کے تحت بجلی کے شعبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں تقسیم کار نیٹ ورک آپریٹرز، مسابقتی سپلائرز، آخری سہارا فراہم کرنے والے سپلائرز اور معاون کاروباری سرگرمیاں شامل ہیں۔

مجوزہ نظام کے تحت تقسیم کار نیٹ ورکس کو نیپرا کی نگرانی میں قدرتی اجارہ داری کے طور پر برقرار رکھا جائے گا، جبکہ بجلی کی فراہمی کے کاروبار کو مرحلہ وار لائسنس یافتہ نجی سپلائرز کے لیے کھولا جائے گا۔ اس کا مقصد مسابقت بڑھانا، خدمات بہتر بنانا، نجی سرمایہ کاری راغب کرنا اور بجلی کے نرخوں میں کمی کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

کمیشن نے واضح کیا ہے کہ صرف ڈسکوز کی نجکاری سے بجلی کے شعبے کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ مالی استحکام، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مؤثر ضابطہ کاری کے لیے ضروری اصلاحات نجکاری سے پہلے یا اس کے ساتھ نافذ کرنا ہوں گی۔

پاکستان کا بجلی کا شعبہ گردشی قرضے، بلند نرخوں، قومی گرڈ سے بجلی کی کم ہوتی طلب، غیر مؤثر آپریشنز اور طویل مدتی بجلی پیداوار کے معاہدوں کے تحت بھاری کپیسٹی ادائیگیوں جیسے مسائل سے دوچار ہے۔

مجوزہ نظام میں تقسیم کار نیٹ ورک آپریٹرز بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نیٹ ورکس کی ملکیت، آپریشن اور ترقی کے ذمہ دار ہوں گے۔ ان کی آمدنی اور منافع کو محض اثاثوں اور سرمایہ کاری کے حجم کے بجائے عملی کارکردگی، بجلی کی فراہمی کے تسلسل اور صارفین کی خدمات سے منسلک کیا جائے گا۔

دوسری جانب مسابقتی سپلائرز بجلی کی خریداری، صارفین کے انتظام، بلنگ اور وصولیوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ کمیشن نے تجویز دی ہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی (سی پی پی اے-جی) کے پرانے بجلی خریداری معاہدے اور ان سے متعلق کپیسٹی ادائیگیوں کی ذمہ داریاں متعلقہ صارفین کے پورٹ فولیوز سمیت نجی سپلائرز کو منتقل کی جائیں۔ تاہم، منتقلی کے دوران موجودہ معاہدوں کی پابندی اور اخراجات و ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہوگی۔

تحفظ یافتہ صارفین کے لیے نرخوں پر حکومتی تحفظ اور موجودہ کراس سبسڈی کا نظام بھی عبوری مرحلے میں برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ حکومتی مالی بوجھ میں اضافہ نہ ہو۔

کمیشن نے مزید تجویز دی ہے کہ ہر تقسیم کار علاقے میں آخری سہارا فراہم کرنے والا سپلائر مقرر کیا جائے، جو کسی نجی سپلائر کے کاروبار سے نکلنے یا بجلی فراہم کرنے سے قاصر ہونے کی صورت میں فراہمی جاری رکھے گا۔

دستاویز کے مطابق نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 میں مالی سال 2025 کے دوران صارفین کی شکایات بڑھ کر 57 لاکھ ریکارڈ کی گئیں، جبکہ نئے کنکشنز کی درخواستوں کی فیس ادا کرنے والے ایک لاکھ 6 ہزار 895 صارفین بجلی کے کنکشن کے منتظر تھے۔ ان کنکشنز سے متعلق غیر فراہم کردہ لوڈ ایک ہزار 21 میگاواٹ سے زیادہ تھا۔

کمیشن نے بجلی کی بندش کے دورانیے اور تعداد، شکایات کے ازالے، نئے کنکشنز کی فراہمی، بلنگ کی درستگی اور صارفین کی خدمات کو کمپنیوں کی کارکردگی جانچنے کے اہم پیمانے بنانے کی سفارش کی ہے۔

دستاویز میں خبردار کیا گیا ہے کہ مہنگے ٹیرف، شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال اور اپنی بجلی پیدا کرنے کے رجحان کے باعث گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہو رہی ہے۔ نتیجتاً مقررہ اخراجات اور کپیسٹی ادائیگیوں کا بوجھ کم صارفین پر منتقل ہوتا ہے، جس سے فی یونٹ نرخ بڑھتے اور صارفین گرڈ سے مزید دور ہوتے ہیں۔

کمیشن نے نیپرا کی خودمختاری اور تکنیکی صلاحیت بہتر بنانے، کئی سال پر محیط شفاف ٹیرف نظام متعارف کرانے اور سبسڈی کی درست تقسیم یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے۔ اس کے مطابق اصلاحات مرحلہ وار نافذ کی جائیں اور نجکاری سے پہلے مستقبل کے ضابطہ جاتی نظام، نرخوں اور مالی ذمہ داریوں کو واضح کیا جائے تاکہ سرمایہ کار بہتر انداز میں خطرات کا جائزہ لے سکیں اور بجلی کے شعبے میں پائیدار سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026