پی ٹی اے کی ریڈیو لائسنس کی مدت 10 سال کرنے اور آن لائن درخواستوں کی تجویز
- پی ٹی اے کی نئی مجوزہ پالیسی: ریڈیو لائسنس کی مدت 10 سال، آن لائن درخواستوں پر 15 کاروباری روز میں فیصلے اور آلات کے استعمال و ضابطوں کی پابندی کے سخت تقاضے
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ریڈیو کے ذریعے مواصلاتی خدمات کے لیے لائسنسنگ کا نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی ہے، جس کے تحت لائسنس کی مدت 10 سال، درخواستوں کی آن لائن کارروائی اور مکمل درخواستوں پر 15 کاروباری روز کے اندر فیصلے سے آگاہ کرنا شامل ہے۔ مجوزہ قواعد میں لائسنس کے حصول کی اہلیت، آلات کے استعمال اور ضابطوں کی پابندی سے متعلق شرائط بھی سخت کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مسودہ ریڈیو بیسڈ سروسز (آر بی ایس) لائسنسنگ ریگولیشنز 2026 کے تحت پی ٹی اے نے لائسنس کی چار اقسام تجویز کی ہیں، جن میں نجی ریڈیو نیٹ ورکس، طیاروں میں استعمال ہونے والے موبائل اسٹیشنز، بحری جہازوں کے موبائل اسٹیشنز اور شوقیہ ریڈیو آپریٹرز شامل ہیں۔ شوقیہ ریڈیو آپریٹرز میں کم عمر افراد کے لیے الگ لائسنس کیٹیگری بھی تجویز کی گئی ہے۔
عوامی آرا کے لیے جاری کردہ مسودے کا مقصد لائسنس کے اجرا کا یکساں طریقۂ کار وضع کرنا ہے۔ اس کا دائرہ کار وائرلیس مواصلاتی نیٹ ورکس، ٹرنکنگ سسٹمز، مائیکرو ویو لنکس، ٹیلی میٹری، موسمیاتی ریڈار اور نگرانی و کنٹرول کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا کے حصول کے نظام (ایس سی اے ڈی اے) سمیت مختلف خدمات تک پھیلا ہوا ہے۔
مجوزہ نظام کے تحت درخواست گزاروں کو پی ٹی اے کے آن لائن پورٹل کے ذریعے الیکٹرانک درخواستیں جمع کرانا ہوں گی، جبکہ نجی ریڈیو نیٹ ورک کے لائسنس کے خواہش مند افراد کو درخواست دینے سے پہلے فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ (ایف اے بی) کے پورٹل کے ذریعے ریڈیو فریکوئنسی اسپیکٹرم مختص کرانا ہوگا۔
پی ٹی اے سات کاروباری روز کے اندر درخواستوں کی تکمیل کا جائزہ لے گی اور کسی کمی کی صورت میں درخواست گزار کو آگاہ کرے گی۔ درخواست گزاروں کو ہر بار بتائی گئی خامیوں کو دور کرنے کے لیے 15 روز دیے جائیں گے، جبکہ تصحیح کے لیے درخواست زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ واپس کی جا سکے گی۔
اتھارٹی مطلوبہ کارروائی مکمل ہونے اور درخواست کے تمام تقاضے پورے ہونے کے بعد 15 کاروباری روز کے اندر اپنے فیصلے سے آگاہ کرے گی۔ نجی ریڈیو نیٹ ورکس کے معاملے میں یہ مدت ایف اے بی کی جانب سے اسپیکٹرم مختص کیے جانے سے بھی مشروط ہوگی۔
مجوزہ قواعد کے تحت لائسنس کی عمومی مدت 10 سال ہوگی، جبکہ کم عمر شوقیہ ریڈیو آپریٹرز کے لائسنس پانچ سال کے لیے جاری کیے جائیں گے۔
لائسنس کی تجدید کے خواہش مندوں کو میعاد ختم ہونے سے کم از کم تین ماہ پہلے درخواست دینا ہوگی، جبکہ اسپیکٹرم کی دوبارہ توثیق کے معاملات میں درخواست کم از کم چھ ماہ پہلے جمع کرانا لازم ہوگا۔
مسودے میں نجی ریڈیو نیٹ ورک کے لائسنس یافتگان کے لیے تجدید کا آسان طریقۂ کار بھی تجویز کیا گیا ہے۔ اس کا اطلاق ان صورتوں میں ہوگا جب لائسنس یافتہ مقررہ وقت پر درخواست دے چکا ہو، واجب الادا رقم ادا کر چکا ہو اور موجودہ نیٹ ورک کے تکنیکی پیرامیٹرز میں تبدیلی کے بغیر تجدید چاہتا ہو، لیکن ایف اے بی لائسنس کی میعاد ختم ہونے تک اسپیکٹرم کی دوبارہ توثیق مکمل نہ کر سکا ہو۔ تاہم، ایسی تجدید بعد میں اسپیکٹرم کی دوبارہ توثیق سے مشروط ہوگی۔
مجوزہ فیس کے ڈھانچے کے تحت درخواست کی کارروائی کے لیے 5,000 روپے ناقابلِ واپسی فیس اور، جہاں لاگو ہو، ابتدائی لائسنس فیس 10,000 روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ شوقیہ ریڈیو لائسنس کی 10 سالہ فیس 2,000 روپے ہوگی، جبکہ کم عمر آپریٹرز کو بلا معاوضہ لائسنس جاری کیے جائیں گے۔
طیاروں اور بحری جہازوں میں استعمال ہونے والے موبائل اسٹیشنز کے لائسنس کی مکمل مدت کے لیے الگ الگ ایک لاکھ روپے فیس تجویز کی گئی ہے۔
طیارے یا بحری جہاز میں نصب اِنمارسیٹ ٹرمینل پر لائسنس کی پوری مدت کے لیے اضافی ڈھائی لاکھ روپے فیس عائد ہوگی۔
نجی ریڈیو نیٹ ورکس کے لیے سالانہ فیس کا تعین ایک فارمولے کے تحت کیا جائے گا، جس میں بنیادی قیمت، فریکوئنسی بینڈ، مختص کردہ فریکوئنسیوں کی تعداد، بینڈوڈتھ، آلات کی آؤٹ پٹ پاور اور مقام کے عامل کو شامل کیا جائے گا۔
مجوزہ ڈھانچے میں شہری، مضافاتی اور دیہی علاقوں کے لیے الگ الگ عوامل مقرر کیے جائیں گے، جبکہ زیادہ شہری آبادی والے علاقوں کے لیے مقام کا عامل زیادہ ہوگا۔
مسودے کے تحت ریڈیو آلات کے لیے قسم کی منظوری (ٹائپ اپروول) لازمی ہوگی، تاہم طیاروں یا بحری جہازوں میں نصب ایسے آلات کو مخصوص شرائط کے تحت استثنا حاصل ہوگا جن کی متعلقہ ہوابازی یا بحری حکام سے تصدیق ہو چکی ہو۔
لائسنس یافتگان کو صرف مختص کردہ فریکوئنسیوں، منظور شدہ آؤٹ پٹ پاور اور دیگر تکنیکی حدود کے اندر رہتے ہوئے آلات چلانے کی اجازت ہوگی۔
پی ٹی اے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کی صورت میں لائسنس جاری کرنے سے انکار کا اختیار حاصل ہوگا۔
اتھارٹی کو لائسنس یافتہ ریڈیو آلات کا معائنے کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، جس کے لیے پیشگی اطلاع دی جائے گی۔ تاہم، نقصان دہ مداخلت، اسپیکٹرم کے غیر مجاز استعمال یا قومی سلامتی کو خطرے کا معقول خدشہ ہونے پر بغیر پیشگی اطلاع بھی معائنہ کیا جا سکے گا۔
شوقیہ ریڈیو آپریٹرز کے لیے مجوزہ قواعد میں کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کے لیے پاکستان ایمیچیور ریڈیو سوسائٹی کی فعال رکنیت اور پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ بھی لازمی ہوگا۔
14 سے 18 سال سے کم عمر افراد سرپرستی اور والدین یا متعلقہ ادارے کی رضامندی کے ساتھ کم عمر آپریٹرز کا لائسنس حاصل کر سکیں گے۔
موجودہ لائسنس یافتگان کو قواعد کے نافذ العمل ہونے کے چھ ماہ کے اندر اپنے لائسنس کی تفصیلات پی ٹی اے کے آن لائن نظام میں بلا معاوضہ درج کرانا ہوں گی۔ تاہم، موجودہ لائسنس اپنی میعاد ختم ہونے تک پہلے سے طے شدہ شرائط کے مطابق برقرار رہیں گے۔