ٹیرف میں اضافے کیلئے کے الیکٹرک کی وزیرِ توانائی سے حمایت کی درخواست
- تنازع کا حل ایسا ہونا چاہیے جو پاور ڈویژن کے بجلی شعبے میں کارکردگی بہتر بنانے کے اہداف کی معاونت کرے، سید محمد طحہ
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نیشنل اپیلیٹ ٹریبونل کی جانب سے نظرثانی شدہ ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) کے خلاف اپیل مسترد کیے جانے کے بعد کے الیکٹرک نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے لیے وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں دوبارہ تیز کردی ہیں۔ اس معاملے پر اب سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) میں سماعت جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طحہ نے چند روز قبل وزیرِ توانائی سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے کمپنی کی موجودہ مالی صورتِ حال سے آگاہ کیا اور مالی سال 2024 سے 2030 تک کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) کے معاملے پر ایسے حل کے لیے حکومتی تعاون طلب کیا جسے کمپنی تمام فریقوں کے لیے فائدہ مند قرار دیتی ہے۔
ذرائع کے مطابق سید محمد طحہ نے تجویز دی کہ اہم امور پر غور کرنے اور کمپنی کے ٹیرف تنازع کا منصفانہ اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو نے مؤقف اختیار کیا کہ اس تنازع کا حل ایسا ہونا چاہیے جو پاور ڈویژن کے بجلی کے شعبے میں کارکردگی بہتر بنانے کے اہداف کی معاونت کرے جبکہ بجلی کمپنی کی مالی پائیداری اور صارفین کو مؤثر انداز میں خدمات کی مسلسل فراہمی کی صلاحیت بھی برقرار رہے۔
حکومت سے رابطوں میں یہ تیزی ایک بڑے ریگولیٹری تنازع کے پس منظر میں سامنے آئی ہے جو وفاقی حکومت کی جانب سے پاور ڈویژن کے ذریعے دائر کردہ درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے کے الیکٹرک کے ٹیرف میں کمی کے بعد پیدا ہوا۔
نیپرا نے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف میں 7.60 روپے فی یونٹ، یعنی تقریباً 19 فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 39.97 روپے سے گھٹا کر 32.37 روپے فی یونٹ کردیا تھا۔ اکتوبر 2025 میں جاری کیے گئے اس فیصلے سے اس ٹیرف کے نظام میں نمایاں تبدیلی آئی جس کے تحت کمپنی کو مقررہ کنٹرول مدت کے دوران کام کرنا تھا۔
پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اصل ٹیرف کے تعین سے سات سالہ کنٹرول مدت کے دوران کے الیکٹرک کو تقریباً 750 ارب روپے کا غیرضروری مالی فائدہ پہنچ سکتا تھا جس کا بوجھ قومی خزانے ملک بھر کے بجلی صارفین اور ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑتا۔
نظرثانی شدہ فیصلے پر کے الیکٹرک اور اس کے بین الاقوامی سرمایہ کاروں، بالخصوص سعودی سرمایہ کار الجمیح، نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ریگولیٹری پالیسی میں تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کے خلاف عالمی عدالتِ ثالثی سے رجوع کیا۔
کے الیکٹرک نے نظرثانی شدہ فیصلے کو نیشنل اپیلیٹ ٹریبونل میں چیلنج کیا، تاہم کمپنی کے بورڈ کے چیئرمین شہریار چشتی کے مطابق، نظرثانی کی درخواست تکنیکی بنیادوں پر مسترد کردی گئی۔ اس کے بعد کمپنی نے یہ تنازع سندھ ہائی کورٹ میں اٹھا لیا جہاں مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔
وزیرِ توانائی اور کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو کے درمیان ملاقات پر تبصرے کے لیے رابطہ کرنے پر شہریار چشتی نے کہا کہ موجودہ ٹیرف کے تحت کمپنی کے لیے پائیدار بنیادوں پر کام جاری رکھنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں نیپرا کی جانب سے مقرر کردہ ٹیرف پر عمل درآمد قطعاً ممکن نہیں۔ نیپرا ٹریبونل نے کے الیکٹرک کی نظرثانی کی درخواست کو تکنیکی بنیادوں پر مسترد کرتے ہوئے اصل معاملے و حقائق کو نظر انداز کیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے نومبر میں سماعت مقرر کرتے ہوئے نیپرا کے فیصلے کے خلاف کوئی فوری ریلیف نہیں دیا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسا متوازن ٹیرف نظام ضروری ہے جو کمپنی کے لیے کاروبار جاری رکھنا ممکن بنائے، صارفین کو ریلیف فراہم کرے اور حکومت پر سبسڈی کا بوجھ ختم کرے۔
اس تنازع نے حکومت اور کے الیکٹرک کے درمیان ٹیرف میں مناسب مالی معاونت کی سطح، کمپنی کی مالی ذمہ داریوں اور بجلی کی لاگت کا بوجھ صارفین اور قومی خزانے کے درمیان تقسیم کرنے کے معاملے پر بنیادی اختلاف کو نمایاں کردیا ہے۔
وزیرِ توانائی اویس لغاری نے متعدد بار بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے میں کے الیکٹرک کے کردار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمپنی کی جانب سے ادائیگیاں نہ کرنے کے باعث مجموعی واجبات میں 640 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے 300 ارب روپے سے زائد کے بقایا جات اور پانچ سال کے دوران کے الیکٹرک کو ملنے والی 600 ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق ان عوامل نے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ ڈالا ہے۔
وزیرِ توانائی نے نیپرا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ کے الیکٹرک کو نسبتاً نرم ریگولیٹری اہداف کے تحت کام کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔
یہ تحفظات ظاہر کرتے ہیں کہ ملٹی ایئر ٹیرف کے تنازع کے کسی بھی مذاکراتی حل میں نہ صرف کے الیکٹرک کی مالی پائیداری بلکہ کمپنی کی کارکردگی، ادائیگیوں کی ذمہ داریوں اور اس کے ٹیرف کے سرکاری مالیات پر اثرات سے متعلق حکومتی خدشات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
تاہم شہریار چشتی نے مؤقف اختیار کیا کہ یکساں ٹیرف کا موجودہ نظام بجلی کی قیمتوں، سبسڈی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مالی صورتِ حال کے درمیان تعلق کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
ان کے مطابق صارفین کو یکساں ٹیرف کے نظام کا پابند بنا دیا گیا ہے جس کے تحت بجلی کے نرخ بڑھنے سے سبسڈی کی ضرورت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ نرخ کم ہونے سے سبسڈی کا بوجھ گھٹ جاتا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ گردشی قرضہ بڑی حد تک بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی کمزور ریکوری اور زیادہ نقصانات کے باعث جمع ہوا جبکہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے واجبات کو بالآخر کئی سال بعد قرض میں شامل کرکے صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کے صارفین بھی کمپنی کے اپنے مالی اور آپریشنل حالات کے باوجود گردشی قرضے کی مد میں فی یونٹ 3.23 روپے ادا کررہے ہیں۔
شہریار چشتی نے کیلنڈر سال 2027 کے لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے دائر کردہ ٹیرف درخواستوں کا بھی حوالہ دیا جن میں مختلف مدت کے تحت کھربوں روپے کے سابقہ سالوں کے ایڈجسٹمنٹس (پی وائی اے) کی منظوری طلب کی گئی ہے۔
انہوں نے ریگولیٹری معاملات میں امتیازی سلوک پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بظاہر کے الیکٹرک کے ساتھ سوتیلی اولاد جیسا برتاؤ کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر تقسیم کار کمپنیاں اپنی لاگت اور انتظامی خامیوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
کے الیکٹرک کے چیئرمین نے مزید کہا کہ کمپنی نے پنشن سے متعلق واجبات کو مؤثر انداز میں نمٹایا ہے اور تمام شعبوں میں اخراجات کم کیے ہیں جبکہ دیگر تقسیم کار کمپنیاں اپنی نااہلیوں کا بوجھ بجلی صارفین پر منتقل کرنے کے لیے نیپرا سے منظوری طلب کررہی ہیں۔
تاہم شہریار چشتی نے تسلیم کیا کہ کے الیکٹرک گزشتہ سات سے آٹھ سال کے دوران بعض ضروری اقدامات کرنے میں بھی ناکام رہی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع کے حل میں کمپنی کی اپنی کوتاہیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ میں حکومت کے اس مؤقف سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ کے الیکٹرک نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ تاہم میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ماضی گزر چکا ہے، اب ہمیں آگے بڑھنا ہے۔
ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ ایسا راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں کمپنی کی ماضی کی کارکردگی سے متعلق حکومتی تحفظات کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ نظرثانی شدہ ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) کی بنیاد بننے والے مالی تخمینوں پر بھی دوبارہ غور کیا جائے۔