✕
کاروبار اور معیشت

بجلی ٹیرف میں 5 سے 10 فیصد اضافے کی تجویز، برآمدی صنعتوں کی شدید مخالفت

  • پاکستانی برآمد کنندگان بجلی کا نرخ 9 امریکی سینٹ فی یونٹ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، عامر شیخ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی برآمدی صنعتوں نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں 5 سے 10 فیصد اضافے کی مجوزہ تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی لاگت، مقررہ چارجز میں اضافے اور گزشتہ برسوں کے اخراجات و کمپنیوں کے انکم ٹیکس کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے سے ملکی برآمدات کی مسابقت مزید متاثر ہوسکتی ہے۔

سال 2027 کے لیے چار ڈسکوز کی ٹیرف درخواستوں پر عوامی سماعتوں کے دوران صنعتی نمائندوں نے نرخوں کی ازسرنو ترتیب، مقررہ اخراجات کا حصہ بڑھانے، گزشتہ برسوں کے اخراجات کی وصولی اور صارفین سے کمپنیوں کی ٹیکس واجبات وصول کرنے پر اعتراضات اٹھائے۔

صنعتی نمائندے عامر شیخ نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان بجلی کا نرخ 9 امریکی سینٹ فی یونٹ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ مسابقتی ممالک میں بعض جگہ بجلی تقریباً 5 سینٹ فی یونٹ دستیاب ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ اضافے سے پاکستانی صنعت کی لاگت میں 5 سے 10 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ خام مال کی محدود دستیابی، کمزور فروخت اور جنگی صورت حال سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں پہلے ہی کاروبار کو متاثر کر رہی ہیں۔

صنعتی حلقوں نے بجلی کے مقررہ اخراجات کا حصہ موجودہ 8 فیصد سے بڑھا کر تقریباً 20 فیصد کرنے کی تجویز پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ کم پیداوار اور بجلی کے کم استعمال کے باوجود مقررہ چارجز بڑھنے سے فیکٹریوں پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ صنعت نے کم از کم ڈیمانڈ انڈیکیٹر کی موجودہ شرح، 1,250 روپے فی کلوواٹ، برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

صنعتی نمائندوں نے ڈسکوز کے گزشتہ برسوں کے اخراجات کی وصولی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض دعوے 15 سال پرانے ہیں، جن کی آزادانہ جانچ اور تصدیق ضروری ہے۔ انہوں نے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کو فراہم کی جانے والی بجلی پر سیلز ٹیکس کے معاملے میں تقریباً 4 ارب روپے صارفین سے وصول کرنے کی تجویز کی بھی مخالفت کی۔

مزید برآں، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے مبینہ طور پر انکم ٹیکس کی مد میں تقریباً 20 ارب روپے جبکہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 15 ارب روپے طلب کیے ہیں۔ صنعت کا مؤقف ہے کہ ڈسکوز کے ٹیکس واجبات صارفین پر منتقل نہیں ہونے چاہئیں، خصوصاً نجکاری کے بعد نجی مالکان کے منافع پر عائد ٹیکس کا بوجھ بھی صارفین سے وصول کرنا غیر مناسب ہوگا۔

برآمد کنندگان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیرف میں اضافے، سابقہ اخراجات اور ٹیکس واجبات کی وصولی سے متعلق تجاویز کا جامع جائزہ لیا جائے تاکہ صنعتی لاگت اور ملکی برآمدات کی مسابقت مزید متاثر نہ ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026