✕
رائے

تیل کی قیمتیں — پاکستان اور امریکا

  • ’’پاکستان میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی 44.7 فیصد سے زائد آبادی کو تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔‘‘
شائع اپ ڈیٹ

امریکا اور پاکستان میں پٹرول کی موجودہ قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو امریکی محکمہ توانائی کے ادارے، یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن، کے مطابق 2 اکتوبر کو امریکا میں پٹرول کی قومی اوسط قیمت 4.35 ڈالر فی گیلن، یعنی 1.08 ڈالر فی لیٹر تھی۔ تاہم مختلف ریاستوں میں یہ قیمت مختلف ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں گزشتہ جمعے ملک بھر میں پٹرول کی قیمت 398.96 روپے فی لیٹر، یعنی 1.44 ڈالر تھی۔

امریکا میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ کے حالات کے مطابق ہوتا ہے، جبکہ پاکستان میں ان کی قیمتیں حکومتی ضابطوں کے تحت مقرر کی جاتی ہیں۔ 17 جولائی 2026 کو، ایران اور امریکا کے درمیان تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد، پاکستانی عوام کو بتایا گیا کہ اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر مقرر کی جائیں گی۔

پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے اسی روز ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:

’’وفاقی کابینہ اور وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کو کسی بھی خطرے سے دوچار کیے بغیر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کی ذمہ داری آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو سونپی جائے، جو بین الاقوامی منڈی کے رجحانات کے مطابق قیمتیں مقرر کرے گی۔

اوگرا اپنی ویب سائٹ پر نہ صرف پلاٹس کے بینچ مارک نرخ شائع کرے گا، جو دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال ہوتے ہیں، بلکہ ان تمام اجزا کی تفصیلات بھی جاری کرے گا جن کی بنیاد پر صارفین کے لیے پٹرول پمپ پر حتمی قیمت مقرر ہوتی ہے۔

اوگرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ یہ تمام تفصیلات شائع کرے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان قیمتوں سے بچنا کیوں ممکن نہیں۔‘‘

پاکستان میں روزانہ قیمتوں کے تعین کا طریقۂ کار سات روزہ متحرک اوسط کی بنیاد پر بین الاقوامی پلاٹس بینچ مارک نرخوں اور متعلقہ درآمدی اخراجات کو مدنظر رکھنا ہے۔ درآمدی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجوہ میں مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں تبدیلی شامل ہیں، اگرچہ روپے اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ میں اب تک نمایاں اتار چڑھاؤ نہیں آیا۔

تاہم ملک نے پٹرولیم لیوی کا ذکر نہیں کیا، جو اس وقت 80 روپے فی لیٹر ہے اور امریکا میں وفاقی ٹیکس کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان میں صوبے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس عائد نہیں کر سکتے، جبکہ امریکا کی ریاستوں کو یہ اختیار حاصل ہے۔ اس تناظر میں یہ بات دوہری ناانصافی معلوم ہوتی ہے کہ حکومت پٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن صوبوں کے ساتھ تقسیم نہیں کرتی۔ اس کے بجائے اسے سیلز ٹیکس کے بجائے دیگر ٹیکسوں کے زمرے میں رکھا جاتا ہے، حالانکہ سیلز ٹیکس کی آمدن قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت قابلِ تقسیم محاصل میں شامل ہوتی ہے۔

ایک اور دیرینہ اور ناقص پالیسی یہ ہے کہ نقل و حمل کے اخراجات میں فرق کے باوجود ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت یکساں رکھی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے قیمتوں میں اندرونِ ملک مال برداری کے اخراجات کو برابر کرنے کا مارجن (آئی ایف ای ایم) شامل کیا جاتا ہے، جو دراصل ایک قسم کی باہمی اعانت ہے۔

علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے لیے وزیراعظم کی منظوری درکار نہیں ہوگی۔ اس بیان کے ذریعے بظاہر وزیراعظم اور 50 سے زائد ارکان پر مشتمل کابینہ کو ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دینے کی ناکام کوشش کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اوگرا روزانہ کے نرخ اور ان کے حساب کتاب کی تفصیلات آن لائن شائع کرے گا، جبکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کریں گے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ریاست کو مالی خطرات سے دوچار کیے بغیر قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت بڑھانا ہے۔

پاکستان میں قیمتوں کے تعین کا فارمولا معمولی ردوبدل کے ساتھ درج ذیل ہے:

اول، ریفائنری یا درآمدی قیمت، جس میں ایندھن کی خریداری، بین الاقوامی قیمت، مال برداری کے اخراجات اور ملک کے اندر تیل صاف کرنے کی لاگت شامل ہے، پٹرول پمپ پر وصول کی جانے والی مجموعی قیمت کا 71.8 فیصد بنتی ہے۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ پاکستان کی ریفائنریوں کا بنیادی ڈھانچہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں فرسودہ ہے۔

دوم، اندرونِ ملک مال برداری کے اخراجات کو برابر کرنے کا مارجن (آئی ایف ای ایم)، جو مجموعی قیمت کا 2.08 فیصد ہے۔ یہ طریقۂ کار ملک بھر میں بجلی کی قیمت یکساں رکھنے کی اسی غیرمنطقی کوشش سے مشابہ ہے، جس کے باعث رواں سال ٹیکس دہندگان کے خرچ پر تقریباً 600 ارب روپے کی سبسڈیز دینا ضروری ہو گیا ہے، جبکہ گردشی قرضے کو محدود رکھنے کے لیے مزید 252 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سوم، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کا منافع، جو بالترتیب دو، دو فیصد ہے اور مجموعی طور پر چار فیصد بنتا ہے۔

چہارم، پٹرولیم لیوی، جو پٹرول پمپ پر وصول کی جانے والی قیمت کا 20.3 فیصد ہے، اور کاربن لیوی، جو آئی ایم ایف کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت منظور کی گئی ہے اور مجموعی قیمت کا 1.3 فیصد بنتی ہے۔

دوسری جانب، شیل آئل اور گیس نکالنے کے لیے سخت چٹانی تہوں میں کھدائی شروع کرنے کے بعد امریکا میں ایندھن کی اضافی دستیابی پیدا ہوئی ہے، اور اس کے پاس اس وقت 83.7 ارب بیرل کے ذخائر موجود ہیں۔ تاہم امریکا میں استعمال ہونے والا ہلکا اور کم سلفر والا خام تیل، جسے لائٹ سویٹ کروڈ کہا جاتا ہے، گاڑیوں کے پٹرول کی تیاری کے لیے موزوں ہے، لیکن اس سے ٹرکوں میں استعمال ہونے والا ڈیزل یا طیاروں کا ایندھن تیار نہیں کیا جا سکتا۔

امریکا میں تیل کی وافر دستیابی کے باوجود ہلکے خام تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے، کیونکہ یورپ میں اس کی قلت ہے۔ اس قلت کی ایک وجہ 22 فروری 2022 کو یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سستے روسی تیل پر پابندیاں عائد کرنے کا معاشی طور پر ناقص فیصلہ ہے، جس کے نتیجے میں یورپ کو امریکا سے توانائی کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرنا پڑا۔

اس وقت یورپ امریکی پٹرول کے لیے اپنی منڈی میں اس قیمت سے کہیں زیادہ نرخ پیش کر رہا ہے جو امریکا میں دستیاب ہے۔ یہی فرق امریکا میں پٹرول پمپ پر قیمتوں میں اضافے کی وضاحت کرتا ہے۔

امریکا پہلے کینیڈا سے پائپ لائن کے ذریعے زیادہ سلفر والا خام تیل درآمد کرتا اور اپنی ریفائنریوں میں اسے صاف کرتا تھا۔ تاہم جاری تجارتی جنگ کے باعث کینیڈا اپنی برآمدات کا رخ یورپ اور چین سمیت دوسرے ممالک کی جانب موڑ رہا ہے۔

امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے بعد وہاں سے زیادہ سلفر والا خام تیل بھی حاصل کیا ہے، تاہم بنیادی ڈھانچے کی محدود صلاحیت اور سکیورٹی کے مسائل پیداوار میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وینزویلا کے 17 تیل کے ذخائر پر کام نئے سرے سے شروع کرنا ہوگا، جس کے لیے چند ماہ نہیں بلکہ کئی سال درکار ہوں گے۔

امریکا میں ہلکے خام تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت اور دستیاب خام تیل کی نوعیت میں بھی فرق ہے۔ ملک کی صرف 30 فیصد ریفائنریاں ہلکے اور کم سلفر والے خام تیل کو صاف کر سکتی ہیں، جبکہ باقی 70 فیصد بنیادی طور پر درآمد شدہ زیادہ سلفر والے خام تیل کی صفائی کے لیے تیار کی گئی ہیں۔

28 فروری 2026 کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد ہلکے اور کم سلفر والے خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اگرچہ پٹرول پمپ پر قیمتیں زمینی سطح پر حقیقی رسد کی عکاسی کر رہی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع سے رسد میں کمی کے باعث زیادہ سلفر والے خام تیل کی قیمتیں بھی بڑھیں، جس کے نتیجے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس نوعیت کے تیل کے ذخائر استعمال کرنا پڑے۔

لوزیانا اور ٹیکساس میں زیرِ زمین ٹینکوں میں محفوظ امریکا کے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی گنجائش 714 ملین بیرل ہے، لیکن اس وقت ان میں صرف 285.4 ملین بیرل تیل باقی ہے۔ یہ مقدار یومیہ 20.1 ملین بیرل کھپت کے حساب سے تقریباً 14 دن کی ضرورت پوری کر سکتی ہے، جبکہ 2026 میں روزانہ 6.8 ملین بیرل کی اوسط درآمدات کے مقابلے میں یہ ذخائر تقریباً 42 دن کے لیے کافی ہیں۔ ذخائر میں اس کمی کے بعد صدر ٹرمپ نے حال ہی میں یورپی ممالک کو بھی اپنے ذخائر استعمال کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے کامیابی سے دباؤ ڈالا۔

امریکا میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا فارمولا یہ ہے: ریفائننگ کے اخراجات 14 سے 25 فیصد، ترسیل اور مارکیٹنگ کے اخراجات 11 فیصد، جبکہ وفاقی ٹیکس 18.4 سینٹ فی گیلن، یعنی تقریباً چار لیٹر پر عائد ہوتا ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم چار لیٹر پر تقریباً 50 روپے یا فی لیٹر 12.5 روپے بنتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف امریکی ریاستیں اپنے اپنے ٹیکس بھی عائد کرتی ہیں۔

آخر میں، پاکستانیوں اور امریکیوں کی آمدن میں نمایاں فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پاکستان میں کم آمدن والے طبقے کو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق پاکستان کی 44.7 فیصد سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

کمزور اور مستحق طبقوں کے لیے جاری سبسڈی اسکیم کے تحت تین ماہ کے لیے صرف 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو رواں مالی سال کے لیے بجٹ میں رکھی گئی 1,676.509 ارب روپے کی پٹرولیم لیوی کا محض 4.4 فیصد ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 7 اکتوبر کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہا تھا:

’’اگر تیل کی قیمتیں توقع سے زیادہ بڑھیں تو مستقبل میں ایندھن پر دی جانے والی کسی بھی معاونت کو محدود مدت کے لیے، مخصوص مستحق طبقوں تک اور پہلے سے موجود سماجی معاونت کے پروگراموں کے ذریعے فراہم کیا جانا چاہیے، جبکہ اس کے اخراجات مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی مقررہ حدود کے اندر رکھے جائیں۔‘‘

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026