✕
کاروبار اور معیشت

گیس کی فراہمی متاثر، کے الیکٹرک نے اضافی لوڈشیڈنگ سے خبردار کردیا

  • کمپنی نے متعلقہ فریقین سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ بجلی پیدا کرنے کی مناسب صلاحیت برقرار رکھی جاسکے اور اس کے سروس ایریاز میں اضافی لوڈشیڈنگ سے بچا جاسکے۔
شائع اپ ڈیٹ

کے الیکٹرک نے خبردار کیا ہے کہ دوبارہ گیس میں تبدیل شدہ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی ممکنہ قلت اور فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث اس کے سروس ایریاز میں لوڈشیڈنگ میں مزید تین سے چار گھنٹے کا اضافہ ہوسکتا ہے، جب تک بجلی کی مناسب پیداوار یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے جاتے۔

6 اکتوبر 2026 کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے رجسٹرار کو لکھے گئے خط میں کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طحہٰ نے بتایا کہ آر ایل این جی کا موجودہ کارگو 6 اکتوبر کو ختم ہوگیا، جبکہ موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث اگلے کارگو کی آمد غیر یقینی ہے۔

کمپنی نے متعلقہ فریقین سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ بجلی پیدا کرنے کی مناسب صلاحیت برقرار رکھی جاسکے اور اس کے سروس ایریاز میں اضافی لوڈشیڈنگ سے بچا جاسکے۔

کے الیکٹرک نے آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہونے کی غیر معمولی صورتحال اور اپنے پاور پلانٹس کے پیداواری ٹیرف سے متعلق نیپرا کے نظرثانی فیصلے کا حوالہ دیا، جس کا نوٹیفکیشن 23 ستمبر 2026 کو جاری ہوا، جبکہ پاور ڈویژن نے 27 ستمبر کو اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

کمپنی کے مطابق ان فیصلوں کے نتیجے میں بن قاسم پاور اسٹیشن ون (بی کیو پی ایس ون)، جو فرنس آئل پر بھی چل سکتا ہے، اور کورنگی کمبائنڈ سائیکل پاور پلانٹ (کے سی سی پی پی) کے ٹیرف ختم ہوگئے۔

کے الیکٹرک نے بتایا کہ ستمبر 2026 میں بھی آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی، جس کے دوران بی کیو پی ایس ون کو فرنس آئل پر چلایا گیا اور بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے اس کی پیداوار 335 میگاواٹ تک پہنچائی گئی۔

تاہم، نظرثانی شدہ فیصلے کے نوٹیفکیشن کے بعد کمپنی کے مطابق موجودہ ٹیرف انتظامات کے تحت ان دونوں پلانٹس کو چلانا ممکن نہیں رہا۔

کمپنی نے کہا کہ گیس کی دستیابی میں کمی اور فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی سہولت نہ ہونے کے باعث اس کی دستیاب پیداواری صلاحیت نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔

کے الیکٹرک نے خبردار کیا کہ بجلی کی ممکنہ کمی کے نتیجے میں مزید تین سے چار گھنٹے لوڈشیڈنگ کرنا پڑ سکتی ہے یا بی کیو پی ایس تھری کو ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلانا ہوگا، جو ایک مہنگا متبادل ہے۔

کمپنی نے نیپرا کے نظرثانی فیصلے کے پیراگراف 10.17 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹر نے کمپنی کے مؤقف کی بنیاد پر نشاندہی کی تھی کہ وزارت توانائی کا پاور ڈویژن پلانٹس کے ٹیرف کے خاتمے کے باوجود کے الیکٹرک کے سروس ایریاز میں بجلی کی فراہمی متاثر نہ ہونے کو یقینی بنائے گا۔

کے الیکٹرک نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ بجلی کی پیداوار میں پیدا ہونے والی ممکنہ کمی دور کرنے اور صارفین کو بجلی کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے فوری مناسب اقدامات کیے جائیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026