✕

پی ٹی اے کی غیر ملکی رومنگ سمز کے لیے شناختی تصدیق، 90 روزہ حد مقرر کرنے کی تجویز

  • سفری ای سم فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن لازمی قرار دینے کی تجویز، قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کنکشنز بند کیے جاسکتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاکستانی موبائل نیٹ ورکس پر استعمال ہونے والی غیر ملکی سمز اور سفری ای سمز کے لیے شناختی تصدیق لازمی قرار دینے کے ساتھ بین الاقوامی رومنگ کے لیے 90 روزہ حد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی فراڈ، سائبر جرائم اور سیکیورٹی خطرات کی روک تھام ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق، مجوزہ بین الاقوامی رومنگ (ان باؤنڈ) ضوابط 2026 کے تحت کسی بھی 180 روزہ مدت کے دوران 90 روز یا اس سے زیادہ عرصے تک استعمال ہونے والے بین الاقوامی رومنگ کنکشنز کو مستقل رومنگ قرار دیا جائے گا۔ ایسی صورت میں اگر موبائل آپریٹرز یہ ثابت نہ کرسکیں کہ کنکشن کا استعمال جائز اور عارضی ہے تو اسے معطل یا بلاک کیا جاسکتا ہے۔

مجوزہ ضوابط کا مقصد بین الاقوامی رومنگ کی خدمات اور سفری سمز یا ای سمز فراہم کرنے والے اداروں کو پی ٹی اے کی نگرانی میں لانا ہے۔ ان میں ایسے پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں جو غیر ملکی مسافروں کو موبائل کنیکٹیویٹی فراہم کرتے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق، اس وقت پاکستان میں آنے والی بین الاقوامی رومنگ سمز مقامی صارف کی شناخت کی تصدیق (کے وائی سی) کے بغیر پاکستانی موبائل نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ضابطہ جاتی نگرانی میں اس خلا کے باعث ناقابلِ سراغ غیر ملکی سمز اور ای سمز کو دھوکا دہی کے لیے استعمال کرنے اور مقامی سطح پر شناخت کی تصدیق کے تقاضوں سے بچ نکلنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

اتھارٹی نے ان کنکشنز سے وابستہ ممکنہ خطرات میں جعلی نمبر سے کالز، ایس ایم ایس کے ذریعے فشنگ، بھتہ خوری، ای کامرس فراڈ اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے مبینہ طور پر جعلی خبریں پھیلانے، نفرت انگیز تقاریر اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق، مقامی طور پر جاری کردہ سمز کے متبادل کے طور پر غیر ملکی سمز کا بڑھتا ہوا استعمال، بشمول مشین ٹو مشین (ایم ٹو ایم) اور انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) آلات کے ذریعے کنکشنز، ضابطہ جاتی نگرانی کو کمزور کرسکتا ہے اور قومی خزانے کے ساتھ پاکستانی موبائل آپریٹرز کو بھی ممکنہ مالی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مجوزہ ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت ٹیلی کام آپریٹرز کو بین الاقوامی رومنگ استعمال کرنے والے صارفین کی شناخت حاصل کرنے اور اس کی تصدیق کے لیے کے وائی سی کا طریقہ کار وضع کرکے نافذ کرنا ہوگا۔ مطلوبہ معلومات میں پاسپورٹ یا سفری دستاویز کی تفصیلات، شہریت، رومنگ سم یا ای سم کی شناختی تفصیلات، صارف کے ملک میں متعلقہ موبائل آپریٹر کی معلومات اور، جہاں دستیاب ہوں، پاکستان آمد کی تاریخ اور قیام کی متوقع مدت شامل ہوں گی۔

شناخت کی تصدیق سم فعال کرنے کے طریقہ کار، خوش آمدیدی ایس ایم ایس میں بھیجے گئے لنکس، پی ٹی اے کے منظور شدہ ڈیجیٹل پورٹل یا امیگریشن اور سرحدی کنٹرول کے اداروں کے ساتھ رابطے کے ذریعے کی جاسکے گی۔ جہاں تکنیکی وجوہات کی بنا پر ایس ایم ایس کے ذریعے تصدیق ممکن نہ ہو، وہاں متبادل انتظامات وضع کیے جائیں گے، جن میں صرف ڈیٹا فراہم کرنے والی ای سمز بھی شامل ہیں۔

مسودے میں پاکستان میں کام کرنے والے سفری سمز اور ای سمز فراہم کرنے والے اداروں کی پی ٹی اے کے ساتھ لازمی رجسٹریشن کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ رجسٹرڈ اداروں کو اپنے نیٹ ورک فراہم کرنے والوں اور تقسیم کے ذرائع کی تفصیلات ظاہر کرنا، پاکستان میں ایک مقامی رابطہ افسر مقرر کرنا اور سمز یا ای سمز کے اجرا، فعالیت، شناختی معلومات اور استعمال سے متعلق تفصیلات اتھارٹی کو فراہم کرنا ہوں گی۔

ٹیلی کام آپریٹرز کو مستقل رومنگ اور مشتبہ ٹریفک کے انداز کی نشاندہی کے لیے نگرانی کے نظام بھی نصب کرنا ہوں گے، رومنگ سے متعلق مخصوص ریکارڈ کم از کم 12 ماہ تک محفوظ رکھنا ہوگا اور پی ٹی اے کو باقاعدگی سے رپورٹس جمع کرانا ہوں گی۔

مشتبہ یا غیر قانونی استعمال کا پتا چلنے پر آپریٹرز غیر ملکی موبائل آپریٹرز سے صارف کی معلومات طلب کرسکیں گے۔ مسودے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے 72 گھنٹے کی مدت مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ سیکیورٹی یا دھوکا دہی کا فوری خطرہ ہونے کی صورت میں یہ مدت 24 گھنٹے ہوگی۔

مجوزہ قواعد میں بلاک کیے گئے بین الاقوامی رومنگ صارفین کا ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، تاکہ معطل کنکشن رکھنے والے صارفین کسی دوسرے آپریٹر کے ذریعے پاکستانی نیٹ ورکس تک رسائی حاصل نہ کرسکیں۔ قابلِ اعتماد معلومات کی بنیاد پر غیر قانونی یا ناجائز سرگرمی ثابت ہونے پر آپریٹرز کو رومنگ سروس معطل یا بلاک کرنا ہوگی۔

فریم ورک میں مشین ٹو مشین (ایم ٹو ایم) اور انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) سمز کو عام صارفین کی وائس کالز، ایس ایم ایس اور عمومی ڈیٹا سروسز کے لیے استعمال کرنے پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ تاہم، حقیقی صنعتی اور مشینی رابطے کی ضروریات کے لیے پی ٹی اے کو ہر معاملے کی بنیاد پر اجازت دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔

اتھارٹی کے مطابق، مجوزہ ضوابط کا مقصد سیکیورٹی مضبوط بنانا، صارفین کا تحفظ بہتر کرنا اور مستقل رومنگ کے مسئلے سے نمٹنا ہے، جبکہ پاکستان کے ضابطہ جاتی نظام کو بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن معیارات اور طریقہ ہائے کار سے ہم آہنگ کرنا بھی پیش نظر ہے۔