خستہ حال اسکولز، فرانس میں طالب علموں، والدین اور اساتذہ کا احتجاجی مارچ
- فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت آگئی، 6,100 سے زائد افراد گرفتار، سیکنڑوں زخمی؛ ملک گیر بے چینی کے بعد حکومت یقین دہانیوں پر مجبور
فرانس میں طلبہ، اساتذہ اور والدین نے منگل کو مختلف شہروں میں احتجاجی مارچ کیا، جبکہ سیکڑوں اسکولوں میں مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ یہ احتجاج کم عملے اور خستہ حال اسکولوں کے مسائل حل کرنے کے مطالبے پر جاری مظاہروں کا سب سے بڑا دن تھا۔
مارسیلے، نانت اور لیون میں مظاہرے صبح کے وقت پرامن انداز میں شروع ہوئے، جبکہ سب سے بڑا احتجاج پیرس میں متوقع تھا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر تعلیمی نظام سے متعلق غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
یہ مظاہرے دو ہفتے قبل پیرس کے پسماندہ مضافاتی علاقوں سے شروع ہوئے تھے اور بعدازاں ملک بھر میں پھیل گئے۔ حکومت نے فسادات پر قابو پانے والی پولیس تعینات کی، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج شہری تشدد کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
پیر کو شمالی فرانس میں پولیس سے جھڑپ کے دوران ایک 15 سالہ نوجوان کا ہاتھ اور بازو کا کچھ حصہ ضائع ہوگیا۔
ہائی اسکول طلبہ یونین کے مطابق 1,800 اسکولوں میں احتجاج کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے وزرا کو اساتذہ کی کمی، طویل اوقاتِ کار اور اسکولوں کی خستہ عمارتوں سمیت طلبہ کے مطالبات پر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
تاہم بڑھتے بجٹ خسارے اور قرضوں کے باعث حکومت کے لیے اضافی اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگا۔