درآمدی توانائی کب خطرہ بن جاتی ہے؟
- عالمی سطح پر تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل بڑھا دیتا ہے
پاکستان کا توانائی کا مسئلہ محض یہ نہیں ہے کہ توانائی مہنگی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ملک کی توانائی کی ضرورت کا ایک بڑا حصہ عالمی قیمتوں، سپلائی میں تعطل اور ایسے جغرافیائی سیاسی واقعات سے متاثر ہوتا ہے جن پر پاکستان کا بہت کم اختیار ہے۔
ایسی معیشت کے لیے جو پہلے ہی مسلسل زرمبادلہ کے دباؤ کا شکار ہے، اس انحصار کی ایک خاصی بڑی قیمت ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل بڑھا دیتا ہے، جبکہ بین الاقوامی توانائی منڈیوں میں تعطل تیزی سے ملکی توانائی کی لاگت اور بیرونی کھاتے پر دباؤ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
اسی لیے تھر کے کوئلے سے متعلق بحث توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستان درآمدی توانائی پر اپنا انحصار مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتا۔ خام تیل، پٹرول، ڈیزل اور آر ایل این جی نقل و حمل، صنعت اور معیشت کے دیگر شعبوں میں ضروری رہیں گے۔ تاہم جہاں مقامی متبادل دستیاب ہوں، وہاں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا توانائی کے تحفظ کو بہتر بنا سکتا ہے۔
مالی سال 2026 میں پاکستان کا پٹرولیم درآمدی بل تقریباً 16.9 ارب ڈالر رہا۔ اسی دوران ملک میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کا ایک مجموعی بیڑا تقریباً 5,280 میگاواٹ کی صلاحیت رکھتا ہے، جو مکمل یا جزوی طور پر درآمدی کوئلے پر انحصار کرتا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان نہ صرف بین الاقوامی ایندھن کی قیمتوں بلکہ مال برداری کے اخراجات، شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ اور عالمی سپلائی میں تعطل کے خطرات سے بھی دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں مقامی توانائی کے وسائل کے زیادہ استعمال کا جواز مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔
تھر ان چند بڑے مقامی ایندھن کے وسائل میں سے ایک ہے جو پہلے ہی بڑے پیمانے پر استعمال ہورہا ہے۔ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی تھر بلاک II میں اوپن پٹ لگنائٹ کان چلاتی ہے، جس نے 2019 میں سالانہ 3.8 ملین ٹن پیداوار کی صلاحیت کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔ فیز II کے ذریعے 2022 میں پیداوار کی صلاحیت دگنی کرکے سالانہ 7.6 ملین ٹن کردی گئی۔
اب فیز III کا آغاز ہورہا ہے، جس سے سالانہ پیداوار کی صلاحیت مزید بڑھ کر 11.2 ملین ٹن ہوجائے گی۔
اس توسیع کی اہمیت خود کان کنی کے سنگِ میل سے کم اور پاکستان کے توانائی کے مجموعی امتزاج کے لیے اس کے ممکنہ مفہوم سے زیادہ ہے۔ گزشتہ سات برسوں کے دوران تھر بلاک II نے تقریباً 38.7 ملین ٹن کوئلہ فراہم کیا، جس سے 1,320 میگاواٹ کی مجموعی تنصیب شدہ صلاحیت رکھنے والے بجلی گھروں سے تقریباً 38,500 گیگا واٹ گھنٹے بجلی پیدا کرنے میں مدد ملی۔
سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے مطابق یہ پیداوار تقریباً 30 لاکھ گھرانوں کو روزانہ بجلی فراہم کرنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔ کمپنی کا تخمینہ ہے کہ مقامی کوئلے کے استعمال سے کم ایندھن درآمد کرنے کی وجہ سے پاکستان کو تقریباً 1.7 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت بھی ہوئی ہے۔
پیداوار میں اضافے کے ساتھ معاشی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔ فیز I کے کمرشل آپریشنز کے آغاز پر کان سے حاصل ہونے والے کوئلے کا لیولائزڈ ٹیرف 47.92 ڈالر فی ٹن تھا، جو فیز II کے کمرشل آپریشنز کے آغاز پر کم ہوکر تقریباً 36.7 ڈالر فی ٹن رہ گیا۔ بعد ازاں تھر کول اینڈ انرجی بورڈ نے ابتدائی کثیر سالہ لیولائزڈ ریفرنس ٹیرف 34.77 ڈالر فی ٹن مقرر کیا، جبکہ 11.2 ملین ٹن سالانہ پیداواری صلاحیت کے فیز III کے معاہدے کے مرحلے کا لیولائزڈ ٹیرف 32.01 ڈالر فی ٹن مقرر کیا گیا۔
پاکستان کے لیے یہ اس لیے اہم ہے کہ توانائی کا تحفظ بالآخر توانائی کی قابل برداشت قیمت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مقامی ایندھن کے وسیع تر وسائل درآمدی ایندھن کی قیمتوں اور زرمبادلہ کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ ملک کو اپنی توانائی کی سپلائی کے ایک حصے پر زیادہ اختیار بھی فراہم کرسکتے ہیں۔
تاہم تھر کو پاکستان کے توانائی کے مسئلے کا مکمل حل نہیں سمجھنا چاہیے۔ کوئلہ توانائی کے مجموعی امتزاج کا صرف ایک حصہ ہے اور درآمدی تیل، پٹرولیم مصنوعات اور آر ایل این جی کو محض لگنائٹ سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا مؤقف یہ نہیں ہے کہ پاکستان کو اپنے پورے توانائی کے نظام کو کوئلے کی جانب منتقل کردینا چاہیے، بلکہ یہ ہے کہ جہاں مقامی وسائل کا متبادل ممکن اور معاشی طور پر قابل عمل ہو، وہاں ان سے بہتر استفادہ کیا جائے۔
اس حوالے سے دیگر وسیع تر پہلو بھی موجود ہیں۔ کوئلہ کاربن کے زیادہ اخراج والا ایندھن ہے، جبکہ پاکستان کو متنوع توانائی نظام کے حصے کے طور پر قابل تجدید توانائی، پن بجلی اور دیگر نسبتاً صاف ذرائع میں بھی تیزی سے اضافہ کرنا ہوگا۔ اس لیے توانائی کے تحفظ کا مطلب کسی ایک ایندھن، خواہ وہ درآمدی ہو یا مقامی، پر انحصار نہیں ہونا چاہیے۔
زیادہ عملی مقصد قابلِ اجتناب درآمدی انحصار کو کم کرنا ہے۔
تھر کی توسیع کا ایک سماجی و معاشی پہلو بھی ہے۔ کان کنی اور بجلی کے منصوبوں نے روزگار اور مقامی معاشی سرگرمیاں پیدا کی ہیں، جبکہ ان سے وابستہ اقدامات نے اردگرد کی آبادیوں میں تعلیم، صحت، فنی تربیت اور بنیادی ڈھانچے کی معاونت کی ہے۔
اس کا بڑا سبق نسبتاً سادہ ہے۔ پاکستان خود کو عالمی توانائی منڈیوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھ سکتا، لیکن اسے ضرورت سے زیادہ ان منڈیوں پر انحصار بھی نہیں کرنا چاہیے۔
فیز III ایسے وقت میں شروع ہورہا ہے جب اس کی اہمیت خاصی بڑھ گئی ہے۔ اس کی کامیابی کا حتمی اندازہ صرف زیادہ کوئلے کی پیداوار سے نہیں بلکہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ آیا مقامی اضافی سپلائی ایندھن کی درآمدات کم کرنے، زرمبادلہ بچانے اور زیادہ قابلِ برداشت اور قابلِ پیش گوئی بجلی کی پیداوار میں کردار ادا کرسکتی ہے یا نہیں۔
پاکستان ہر شعبے میں توانائی کی درآمدات کم نہیں کرسکتا۔ لیکن جہاں مقامی متبادل پہلے سے موجود ہے، وہاں اسے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کا جواز نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔