✕
پاکستان

مکہ معاہدے کے تحت دفاعی کمیٹی کا اجلاس جلد ریاض میں ہوگا، اسحاق ڈار

  • حتمی فیصلہ ہونے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ
شائع اپ ڈیٹ

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کے روز کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی دفاعی کمیٹی کا اجلاس جلد ریاض میں ہوگا، جس میں زمینی صورتِ حال، بالخصوص سعودی عرب میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے دفتر خارجہ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا، ’’متعلقہ حکام تقریباً تیار ہیں اور مکہ معاہدے کے تحت زمینی صورتِ حال، بالخصوص سعودی عرب کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلے کے بعد اجلاس کے نتائج اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر مصروفیات کا جائزہ لیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ رواں سال سفارتی سرگرمیاں ’’اوسط سے کہیں زیادہ‘‘ رہیں۔ وزیراعظم نے فلسطین اور جموں و کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا، پاک بھارت تنازع اور امریکا ایران کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف خلل عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرسکتا ہے، جبکہ افغانستان سے لاحق سکیورٹی خطرے اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔

وزیراعظم نے فیلڈ مارشل اور دفتر خارجہ کی خدمات کو سراہا، جبکہ اسحاق ڈار نے امریکا ایران ثالثی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیف آف ڈیفنس فورسز، کے کردار کو سراہا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے 47 سال میں پہلی بار امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا، جہاں 21 گھنٹوں پر محیط 6 نشستوں کے بعد 18 جون کو معاہدے پر دستخط ہوئے۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش سے پیدا ہونے والے توانائی بحران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں، تاہم حکومت نے مالی مشکلات اور آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود 800 سی سی تک کی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لاکھوں مالکان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایندھن ریلیف اسکیم کی منظوری دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی پیش کردہ کثیرالجہتی نظام اور تنازعات کے پُرامن حل سے متعلق قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی، جو 12 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا۔

مکہ معاہدے کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ کم از کم 6 مسلم ممالک نے اس میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم سیکریٹریٹ مکمل طور پر فعال ہونے تک نئے ارکان کو شامل کرنے پر غور نہیں کیا جاسکتا، جس میں کم از کم ایک سال لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے 3 بانی ممالک کی طے کردہ اصولوں کو تسلیم کرتے ہوں۔ رکنیت سے متعلق فیصلے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ طور پر کریں گے۔

مکہ معاہدے پر 7 اگست کو دستخط ہوئے تھے اور اس کا پہلا افتتاحی اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہوا۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات نیویارک میں جبکہ تینوں ممالک کے آرمی چیفس کا اجلاس ریاض میں ہوا۔

سوالات کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ تنازع کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ عالمی جنگوں کے بعد بھی متحارب ممالک کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ادارے قائم کرنا پڑے۔

کشمیر کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ’’بالکل واضح‘‘ ہے کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہیے، 5 اگست 2019 کے بھارت کے اقدامات واپس لیے جانے چاہئیں اور آبادی کے تناسب میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد فوری طور پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا، تاہم اس مرتبہ دفتر خارجہ نے بھارت کے بیانیے کو تقویت نہیں پکڑنے دی اور بلا تاخیر آزادانہ و غیر جانب دار تحقیقات کی پیشکش کی۔

ان کے مطابق بھارت نے جب 15 مقامات پر حملوں اور ایف 16 طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تو پاکستان نے ان دعوؤں کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں بھارت کی اپنی ساکھ متاثر ہوئی۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ سول و عسکری قیادت نے طے کیا ہے کہ پاکستان ’’پانی کا ایک قطرہ بھی‘‘ نہیں چھوڑے گا، کیونکہ یہ 25 کروڑ عوام کی امانت ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ انہوں نے غزہ کے معاملے پر مصر کی میزبانی میں عرب اسلامی گروپ کے 8 ممالک کے اجلاس، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے 4 ملکی اجلاس، مصنوعی ذہانت کے موضوع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ، جموں و کشمیر اور افغانستان سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاسوں اور وبائی امراض سے بچاؤ اور ان سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔

انہوں نے بتایا کہ 27 ستمبر کو انہوں نے ای سی او وزرائے خارجہ کونسل کے غیر رسمی اجلاس کی صدارت کی، جبکہ فرانس کی میزبانی میں 2 ریاستی حل سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کا خواہاں ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔